ٹیگ کے محفوظات: مست

اعلان کردیا گیا میری شکست کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 6
امکان دیکھنے کو رکا تھا میں جست کا
اعلان کردیا گیا میری شکست کا
سائے سے اپنے قد کا لگاتا ہے تُو حساب
اندازہ ہو گیا ہے ترے ذہنِ پست کا
تجھ کو بدن کی حد سے نکلنا کہاں نصیب
سمجھے گا کیسے روح کو آلودہ ہست کا
تُو ہے۔ کہ کل کی بات کا رکھتا نہیں ہے پاس
میں ہوں کہ پاسدار ہوں عہدِ الست کا
جس سے گروہِ بادہ فروشاں حسد کرے
طاری ہے مجھ پہ نشّہ اُسی چشمِ مست کا
جا شہرِ کم نگاہ میں شہرت سمیٹ لے
یہ کام ہے بھی تجھ سے ہی موقع پرست کا
شاہِ جنوں کا تخت بچھا ہے بہ اہتمام
پہلو میں انتظام ہے میری نشست کا
وسعت ملی ہے ضبط کو میرے بقدرِ درد
بولو کوئی جواب ہے اس بندوبست کا؟
عرفان تیری لاج بھی اللہ کے سپرد
ستّار ہے وہی تو ہر اک تنگ دست کا
عرفان ستار

گردن شیشہ ہی میں دست رہا

دیوان دوم غزل 755
میں جوانی میں مے پرست رہا
گردن شیشہ ہی میں دست رہا
در میخانہ میں مرے سر پر
ظل ممدود دار بست رہا
سر پہ پتھر جنوں میں کب نہ پڑے
یہ سبو ثابت شکست رہا
ہاتھ کھینچا سو پیر ہوکر جب
تب گنہ کرنے کا نہ دست رہا
آنسو پی پی گیا جو برسوں میں
دل درونے میں آب خست رہا
جب کہو تب بلند کہیے اسے
قد خوباں کا سرو پست رہا
میر کے ہوش کے ہیں ہم عاشق
فصل گل جب تلک تھی مست رہا
میر تقی میر

پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 33
وُہ جامِ فتح ہو کہ وُہ جامِ شکست ہو
پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو
پھر کیوں نہ آدمی ہو ثمر ایسے باغ کا
اسبابِ خیر و شر کا جہاں بندوبست ہو
خبروں میں بل پڑے ہوئے شیشے کا وصف ہے
شاید کہ تم بلند ہو شاید کہ پست ہو
ہر ہاں نہیں میں اور نہیں ہاں میں رونما
جیسے یہ ہست بود ہو اور بود ہست ہو
مشکل نہیں ہے وارنا احساں پہ عدل کا
فطرت میں آدمی نہ اگر تنگ دست ہو
اتنا ہوا کہ سنگ کو تجرید مل گئی
تم مان لو کہ اصل میں تم بت پرست ہو
آفتاب اقبال شمیم