ٹیگ کے محفوظات: مساہلہ

کرے ہے آپھی شکایت کہ ہم گلہ نہ کریں

دیوان سوم غزل 1182
کبھو ملے ہے سو وہ یوں کہ پھر ملا نہ کریں
کرے ہے آپھی شکایت کہ ہم گلہ نہ کریں
ہوئی یہ چاہ میں مشکل کہ جی گیا ہوتا
نہ رہتے جیتے اگر ہم مساہلہ نہ کریں
ہمارے حرف پریشاں ہی لطف رکھتے ہیں
جنوں ہے بحث جو وحشت میں عاقلانہ کریں
صفاے دل جو ہوئی ٹک تو دیکھیں ہیں کیا کیا
ہم ایسے آئینے کو اپنے کیوں جلا نہ کریں
وبال میں نہ گرفتار ہوں کہیں مہ و مہر
خدا کرے ترے رخ سے مقابلہ نہ کریں
دل اب تو ہم سے ہے بدباز اگر رہے جیتے
کسو سے ہم بھی ولے پھر معاملہ نہ کریں
سخن کے ملک کا میں مستقل امیر ہوں میر
ہزار مدعی بھی مجھ کو دہ دلا نہ کریں
میر تقی میر

محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو

دیوان دوم غزل 933
عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو
محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو
تنک شراب ضعیف الدماغ ہوں ساقی
دم سحر مئے پرزور مت پلا مجھ کو
پڑا رہے کوئی مردہ سا کب تلک خاموش
ہلا کہیں لب جاں بخش کو جلا مجھ کو
جنوں میں سخت ہے اس زلف سے علاقۂ دل
خوش آگیا ہے نہایت یہ سلسلہ مجھ کو
فلک کی چرخ زنی برسوں ہو تو مجھ سا ہو
سمجھ سمجھ کے تنک خاک میں ملا مجھ کو
رہا تھا خوں تئیں ہمرہ سو آپھی خون ہے حیف
رفیق تجھ سا ملے گا کہاں دلا مجھ کو
درستی جیب کی اتنی نہیں ہے اے ناصح
بنے تو سینۂ صدچاک دے سلا مجھ کو
ہوا ہوں خاک پہ دل کی وہی ہے ناصافی
ابھی اس آئینے کی کرنی ہے جلا مجھ کو
مگر کہ مردن دشوار میر سہل ہے شوخ
ہلاک کرتا ہے تیرا مساہلہ مجھ کو
میر تقی میر