ٹیگ کے محفوظات: مسافر

کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 44
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے، میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو
احمد فراز

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

مسافر

گزر گاہِ جہاں پر — ہم مسافر!

شکستہ دل، شکستہ دم، مسافر

عجب کچھ زندگانی کا سفر ہے

مسافر کا نہیں محرم مسافر

گلے ملتی ہے رو رو کر گلوں سے

کہ اس گلشن میں ہے شبنم مسافر

کٹھن ہے عشق کی منزل کٹھن ہے

چلے ہیں اس روش پر کم مسافر

ابد اک موڑ تیرے راستے کا

تو سیلِ شوق ہے، مت تھم مسافر!

گلہ کیوں شومیِ قسمت کا امجد؟

کرے کیوں فکرِ بیش و کم مسافر

مجید امجد

رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 519
پانیوں کو منجمد ہوناتھا آخر ہو گئے
رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے
ہر طرف گہری سفیدی بچھ گئی ہے آنکھ میں
ایک جیسے شہر کے سارے مناظر ہو گئے
پھیر دی چونے کی کوچی زندگی کے ہاتھ نے
جو مکاں ہوتے تھے لوگوں کے مقابر ہو گئے
کھڑکیاں جیسے مزاروں پر دئیے جلتے ہوئے
چمنیاں جیسے کئی آسیب ظاہر ہو گئے
بین کرتی عورتوں کی گائیکی لپٹی ہمیں
روح کے ماتم کدے کے ہم مجاور ہو گئے
برف کی رُت سے ہماری سائیکی لپٹی رہی
اک کفن کے تھان میں سپنے بھی شاعر ہو گئے
بے پنہ افسردگی کی ایک ٹھنڈی رات میں
کم ہوئیں منصور آنکھیں خواب وافر ہو گئے
منصور آفاق

یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 283
دل نہیں مانتا میں پھرتجھے چھوڑ آیا ہوں
یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں
پاؤں پتھر تھے پہاڑوں کی طرح لگتے ہیں
سچ یہی ہے تری خاطر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہاں بھول گیا تھا مجھے رکھ کر جاناں
میں اسی جگہ پہ آخر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہنم کی گلی میں مجھے چھوڑآیا تھا
میں تو جنت میں مسافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
جتنا ممکن تھا ترا ساتھ دیا ہے لیکن
آخرش میں بھی اے کافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
منصور آفاق

ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 60
آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا
یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت کو
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا
پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں
امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا
یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا
آغوشِ خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں
پھرتا ہے وہ جہاں میں مسافر بنا ہوا
فتویٰ دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
کیا قریہء کلام میں قحط الرجال ہے
منصور بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا
منصور آفاق