ٹیگ کے محفوظات: مسافت

شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 226
ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو
ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو
دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو، محبت کم نہ ہونے دو
ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو
مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ ذات میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو
مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو
رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو
منصور آفاق

مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 181
وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی
مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی
زندگی داغ محبت ہی سہی
آپ سے دور کی نسبت ہی سہی
تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی
ایک لمحے کی مسافت ہی سہی
دل محبت کی ادا چاہتا ہے
ایک آنسو دم رخصت ہی سہی
آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام
زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی
اپنی تقدیر میں سناٹا ہے
ایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی
اس قدر شور طرب کیا معنی
جاگنے کی مجھے عادت ہی سہی
بزم رنداں سے تعلق کیسا
آپ کی میز پہ شربت ہی سہی
حد منزل ہے مقرر باقیؔ
رہرو شوق کو عجلت ہی سہی
باقی صدیقی