ٹیگ کے محفوظات: مزاج

مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 22
گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا
مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا
وہ شہر یار جب اقلیم حرف میں آیا
تو میرا دست نگر تخت و تاج اس کا تھا
میں کیا بتاؤں کہ کیوں اس نے بے وفائی کی
مگر یہی کہ کچھ ایسا مزاج اس کا تھا
لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان
جھکی تھی جانبِ قاتل کہ راج اس کا تھا
تجھے گلہ ہے کہ دنیا نے پھیر لیں‌ آنکھیں
فراز یہ تو سدا سے رواج اس کا تھا
احمد فراز

ایک مدت سے وہ مزاج نہیں

دیوان اول غزل 285
بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں
درد اگر یہ ہے تو مجھے بس ہے
اب دوا کی کچھ احتیاج نہیں
ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن
مرض عشق کا علاج نہیں
شہر خوبی کو خوب دیکھا میر
جنس دل کا کہیں رواج نہیں
میر تقی میر

بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 600
وہ پور پورہے کیسی، علاج کیسا ہے
بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے
مثالِ دانہ ء گندم غذائیں کیسی ہیں
کسی بہشت کا تازہ اناج کیسا ہے
کیا اب بھی ذہن کشادہ ہے آنکھیں روشن ہیں
گزر ہے کیسی بتا ، کام کاج کیسا ہے
عجب جلوس نکالے ہیں دھڑکنیں مجھ میں
یہ تیز ہوتا ہوا احتجاج کیسا ہے
ہمیشگی کیلئے موت کیوں ضروری ہے
اے آسمان یہ تیرا رواج کیسا ہے
مٹھاس بھی ہے نشہ بھی ہے اس کے پہلو میں
شراب و شہد کا وہ امتزاج کیسا ہے
دھمال ڈالنی ماتم کی تال پر ہے مجھے
یہ رسم کیسی ہے غم کی ، رواج کیسا ہے
گلے میں کھوپڑیوں کی قدیم مالا سی
ہر ایک شخص ہے کاہن ، سماج کیسا ہے
نظر سنا نہیں سکتی لہو کی آوازیں
بدن سے پوچھ بدن کا مزاج کیسا ہے
یہ پوچھتی ہے مسافت بھری ہوئی گاڑی
مرے فلیٹ کا خالی گیراج کیسا ہے
گذشتہ شب کی اداسی نکال دے گھر سے
بس اتنا ذہن میں رکھ تیرا آج کیسا ہے
میں رو پڑا ہوں اسے سوچ کر کہاں منصور
یہ بزمِغیر میں غم کا خراج کیسا ہے
منصور آفاق