ٹیگ کے محفوظات: مری

سہل اُس نے ہی کی مری مشکل

آزمانے کو جس نے دی مشکل
سہل اُس نے ہی کی مری مشکل
زندگی تو اِسی طرح سے ہے
کبھی آسان اور کبھی مشکل
میرے معمول کے ملاقاتی
کوئی چھوٹی کوئی بڑی مشکل
جو تمہارے لیے سہولت ہے
وہ ہمارے لیے بنی مشکل
چھوڑ آیا تھا میں جسے پیچھے
سامنے ہے مرے وہی مشکل
یوں تو آرام ہر طرح کا ہے
رات سونے میں کچھ ہوئی مشکل
باصر کاظمی

کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف

بادل ہے اور پھول کھِلے ہیں سبھی طرف
کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف
تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے
اچھا ہُوا کہ ہم نے نہ دیکھا تِری طرف
جب بھی مِلے ہم اُن سے اُنہوں نے یہی کہا
بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف
اے دل یہ دھڑکنیں تِری معمول کی نہیں
لگتا ہے آ رہا ہے وہ فِتنہ اِسی طرف
خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اُس کے پاس
نکلے گناہ بیسیوں اُلٹا مِری طرف
باصرِؔ عدو سے ہم تو یونہی بدگماں رہے
تھا اُن کا اِلتفات کسی اور ہی طرف
باصر کاظمی

اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر

دِل پریشان ہے چل کوئی بات کر!
اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر!
آج مجھ میں سما! میری بانہوں میں آ!
میں اکیلا ہوں نیلم پری! بات کر!
بات کرتے ہوئے آج اُس نے کہا
چھوڑ رنجش پُرانی نئی بات کر!
میں چلا جاؤں گا یہ نگر چھوڑ کر
مختصر ہی سہی اجنبی! بات کر!
آخری بار میری طرف دیکھ لے
آخری بار مجھ سے مِری بات کر!
یوں نہ باتیں بنا دُشمنِ جان و دل
تیرے دِل میں ہے جو ، بس وہی بات کر!
میں براے سخن! آگیا ہوں یہاں
سُن مِری ان سُنی! ان کہی بات کر!
افتخار فلک

دبنے والی نہیں مری آواز

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز
دبنے والی نہیں مری آواز
تیری نظریں کہ آبشار گرے
میرا دامن کہ گونجتی آواز
یوں ہُوا ہے کہ ذکر سے تیرے
تیرے پیکر میں ڈھل گئی آواز
ہائے کس جذبۂ جواں سے ہے
نکھری نکھری دُھلی دھُلی آواز
کوئی غنچہ چٹک رہا ہو گا
تھی توانا بھری بھری آواز
نامُرادی کا کیا گلہ ماجدؔ
ہم نے اُٹھنے ہی جب نہ دی آواز
ماجد صدیقی

ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 101
بلا سے ہو شام کی سیآ ہی کہیں تو منزل مری ملے گی
ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی
ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی
کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی
تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے
قضا سے جو ہمکنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی
قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملین گے بجز نشیمن
چمن کا ایک ایک گل ملے گا چمن کی اک اک کلی ملے گی
تمھاری فرقت میں کیا ملے گا، تمھارے ملنے سے کیا ملے گا
قمر کے ہوں گے ہزار ہا غم رقیب کو اک خوشی ملے گی
قمر جلالوی

ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 376
رات جن کاجلی آنکھوں سے لڑی آنکھیں ہیں
ننگی تلواریں ہیں دونوں وہ کوئی آنکھیں ہیں
آنکھ جھپکوں تو نکل آتی ہیں دیواروں سے
میرے کمرے میں دو آسیب بھری آنکھیں ہیں
ہجر کی جھیل ترا دکھ بھی ہے معلوم مگر
یہ کوئی نہر نہیں ہے یہ مری آنکھیں ہیں
دیکھتے ہیں کہ یہ سیلاب اترتا کب ہے
دیر سے ایک ہی پانی میں کھڑی آنکھیں ہیں
جن کی مژگاں پہ نمی دیکھ کے تُو روتی تھی
تیز بارش میں ترے در پہ وہی آنکھیں ہیں
کون بچھڑا ہے کہ گلیوں میں مرے چاروں طرف
غم زدہ چہرے ہیں او ر ر وتی ہوئی آنکھیں ہیں
انتظاروں کی دو شمعیں ہیں کہ بجھتی ہی نہیں
میری دہلیز پہ برسوں سے دھری آنکھیں ہیں
اب ٹھہر جا اے شبِ غم کہ کئی سال کے بعد
اک ذرا دیر ہوئی ہے یہ لگی آنکھیں ہیں
باقی ہر نقش اُسی کا ہے مرے سنگ تراش
اتنا ہے اس کی ذرا اور بڑی آنکھیں ہیں
خوف آتا ہے مجھے چشمِ سیہ سے منصور
دیکھ تو رات کی یہ کتنی گھنی آنکھیں ہیں
منصور آفاق