ٹیگ کے محفوظات: مری مور جاں

مری مور جاں

مری مور جاں،

مورِ کم مایہ جاں،

رات بھر، زیرِ دیوار، دیوار کے پاؤں میں

رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی تھی؛

مگر صبح ہونے سے پہلے

انہوں نے جو دروازہ کھولا

تو میں مردہ پایا گیا ۔۔

[مرے خواب زندہ بچے تھے!]

مجھے آنسوؤں کے کرم سے ہمیشہ عداوت رہی ہے

تو میں نے یہ پوچھا: عزیزو!

تمہیں اس کا خدشہ نہیں

کہ میرے زیاں سے، وہ آہنگِ حرف و معانی

نمودار ہو گا، مری مور جاں جس کی خاطر

سدا رینگتی، سانپ لہریں بناتی رہی ہے؟

تمہیں اس کا خدشہ نہیں،

کہ یہ خواب بھی،

جو مری موت پر تہ نشیں رہ گئے ہیں،

جنہیں تم ہزاروں برس تک

چھپاتے پھرو گے اساطیر کے روزنوں میں

محبت کے کافور کو چیر کر

عقیدت کی روئی کے تودوں سے ناگہ نکل کر

عجائب گھروں میں، ہزاروں برس بعد کے

زائروں کے لیے راحتِ جاں بنیں گے،

تمہیں اس کا خدشہ نہیں ہے۔۔۔۔؟

ہنسے، جیسے یہ بات میں نے

انہی کے دلوں سے چُرا لی!

وہ کہنے لگے: ہاں یہ خدشہ تو ہے،

آؤ، اس مرنے والے کو پھر سے جلا دیں

[مگر اس کے خوابوں کو نابود کر دیں !]

اسے رینگنے دیں

اسے سالہا سال تک رینگنے دیں

اور آئندہ نسلوں کی جانیں

غمِ آگہی سے بچا لیں!

ن م راشد