ٹیگ کے محفوظات: مریساتوں

سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 108
کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے
جیسے سب رنگ دھنک کے مجھے چھونے آئے
عکس لہراتے ہیں آنکھوں میں مری،ساتوں کے
بارشیں آئیں اور آنے لگے خوشرنگ عذاب
جیسے صندوقچے کُھلنے لگے سوغاتوں کے
چُھو کے گُزری تھی ذراجسم کو بارش کی ہَوا
آنچ دینے لگے ملبوس جواں راتوں کے
پہروں کی باتیں وہ ہری بیلوں کے سائے سائے
واقعے خوب ہُوئے ایسی ملاقاتوں کے
قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم
سوچ چمکاتی رہے رنگ گئی باتوں کے
پروین شاکر