ٹیگ کے محفوظات: مرجھا

چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی

ڈُوبتے سورج کی جب یاد آ گئی
چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی
شب کے دَریا میں پڑے ایسے بھنور
چاند کی کشتی بھی غوطہ کھا گئی
کتنے چمکیلے ستارے جل بجھے
پو پھٹے اِک برق سی لہرا گئی
جانے کتنے گُل کدوں کا راز تھی
وہ کلی جو بِن کھِلے مُرجھا گئی
آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہ نماؤں کی ہنسی تڑپا گئی
زندگی! تجھ سے شکایت کیا کریں
آج ہم سے موت بھی شرما گئی
شکیب جلالی

بڑا ہی کرم آپ فرما رہے ہیں

وفا کا صلہ ہم جفا پا رہے ہیں
بڑا ہی کرم آپ فرما رہے ہیں
یہ بحرِ حوادث کے پُرشور دھارے
ڈُبو کر مجھے خود بھی پچھتا رہے ہیں
بہار آئی ہے اور آتی رہے گی
مگر وہ گُلِ تر جو مُرجھا رہے ہیں
ابھی عزمِ صحرا نَوردی کہاں ہے
پیاماتِ منزل چلے آرہے ہیں
نہ دنیا، نہ عُقبٰی، نہ خُلد ان کا مسکن
شہیدِ محبت کہاں جا رہے ہیں
غمِ جاوداں ہے محبت کا حاصل
محبت میں ہم زندگی پا رہے ہیں
شکیبؔ! ان کی ہر بات عینِ یقیں ہے
خدا جانے کیوں وہ قسم کھا رہے ہیں
شکیب جلالی

کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم

دیوان چہارم غزل 1438
ایک آدھ دن سنوگے سنّا کے رہ گئے ہم
کانپا کرے ہے جی سو ٹھہرا کے رہ گئے ہم
واشد ہوئی سو اپنی پژمردگی سے بدتر
موسم گئے کے گل سے مرجھا کے رہ گئے ہم
پرداغ دل کو لے کر آخر کیا کنارہ
اس باغ سے گلی میں جا جا کے رہ گئے ہم
سوز دروں نے ہم کو پردے میں مار رکھا
جوں شمع آپ ہی کو کھا کھا کے رہ گئے ہم
حیرت سے عاشقی کی پوچھا تھا دوستوں نے
کہہ سکتے کچھ تو کہتے شرما کے رہ گئے ہم
اے وائے دل گئے پر جی بھی گیا ہمارا
یعنی کہ میر برسوں پچھتا کے رہ گئے ہم
میر تقی میر