ٹیگ کے محفوظات: مرجھانا

یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 200
آنسوئوں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط
وہ پرندوں کے پروں سے نرم، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط
جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط
درد کے آتش فشاں تھم، کانپتی ہیں دھڑکنیں
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط
کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط
ان دنوں غم ہائے جاناں سے مجھے فرصت نہیں
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط
ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھر سے ٹکرانا غلط
ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط
وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط، یہ جام و پیمانہ غلط
کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط
کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط
زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدہام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط
جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کو بہلانا غلط
منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط
پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط
زندگی جس کے لیے میں نے لگا دی داؤ پر
وہ تعلق واہمہ تھا، وہ تھا یارانہ غلط
میں انا الحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
منصور آفاق

راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 43
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صدا
ہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
زندگی ہے، شورشیں ہی شورشیں
خود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا
تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کام
شکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا
کوئی دل کی بات کیا کہنے لگے
اپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا
راستے میں اس قدر تھے حادثات
ہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا
زندگی جیسے اسی کا نام ہے
اس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا
ہے کلی بے تاب کھلنے کے لئے
اور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا
زندگی کا راز پانے کے لئے
زندگی کی راہ میں آنا پڑا
راستے سے اس قدر تھے بے خبر
مل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا
دوستوں کی بے رُخی باقیؔ نہ پوچھ
دشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا
باقی صدیقی