ٹیگ کے محفوظات: مرجھائے

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے

دیوان ششم غزل 1909
کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے
بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے
اس مرے نوباوئہ گلزار خوبی کے حضور
اور خوباں جوں خزاں کے گل ہیں مرجھائے ہوئے
چھپ کے دیکھا ہمرہاں نے اس کو سو غش آگیا
حیف بیخود ہو گئے ہم پھر بخود آئے ہوئے
ہر زماں لے لے اٹھو ہو تیغ بیٹھا مجھ کو دیکھ
آئے ہو مستانہ کس دشمن کے بہکائے ہوئے
گھر میں جی لگتا نہیں اس بن تو ہم ہوکر اداس
دور جاتے ہیں نکل ہجراں سے گھبرائے ہوئے
ایک دن موے دراز اس کے کہیں دیکھے تھے میں
ہیں گلے کے ہار اب وے بال بل کھائے ہوئے
دشمنی سے سایۂ عاشق کو جو مارے ہے تیر
اس کماں ابرو کے جاکر میر ہمسائے ہوئے
میر تقی میر

آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی

دیوان پنجم غزل 1747
دل کی لاگ بری ہوتی ہے رہ نہ سکے ٹک جائے بھی
آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی
آنکھ نہ ٹک میلی ہوئی اپنی مطلق دل بے جا نہ ہوا
دل کی مصیبت کیسی کیسی کیا کیا رنج اٹھائے بھی
ٹھنڈے ہوتے نہ دیکھے ہرگز ویسے ہی جلتے رہتے ہیں
تلوے حنائی اس کے ہم نے آنکھوں سے سہلائے بھی
رنگ نہیں ہے منھ پہ کسی کے باد خزاں سے گلستاں میں
برگ و بار گرے بکھرے ہیں گل غنچے مرجھائے بھی
نفع کبھو دیکھا نہیں ہم نے ایسے خرچ اٹھانے پر
دل کے گداز سے لوہو روئے داغ جگر پہ جلائے بھی
عشق میں اس کے جان مری مشتاق پھرے گی بھٹکی ہوئی
شوق اگر ہے ایسا ہی تو چین کہاں مرجائے بھی
تاجر ترک فقیر ہوئے اب شاعر عالم کامل ہیں
پیش گئی کچھ میر نہ اپنی سوانگ بہت سے لائے بھی
میر تقی میر

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

دیوان سوم غزل 1117
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہمسائے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میر سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہوکے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
میر تقی میر

روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 239
روز دل پر اک نیا زخم آئے ہے
روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے
کوئی تا حد تصور بھی نہیں
کون یہ زنجیر در کھڑکائے ہے
تیرے افسانے میں ہم شامل نہیں
بات بس اتنی سمجھ میں آئے ہے
وسعت دل تنگی جاں بن گئی
زخم اک تازیست پھیلا جائے ہے
جھوم جھوم اٹھی صبا کے دھیان میں
کتنی مشکل سے کلی مرجھائے ہے
زندگی ہر رنگ میں ہے اک فریب
آدمی ہرحال میں پچھتائے ہے
گاہ صحرا سے ملے پانی کی موج
گاہ دریا بھی ہمیں ترسائے ہے
میری صورت تو کبھی ایسی نہ تھی
آئنہ کیوں دیکھ کر شرمائے ہے
باقیؔ اس احساس کا کوئی علاج
دل وہیں خوش ہے جہاں گھبرائے ہے
باقی صدیقی