ٹیگ کے محفوظات: مرتے

رات بھر ہم نکھرتے سنورتے رہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
چاہتوں میں نئے رنگ بھرتے رہے
رات بھر ہم نکھرتے سنورتے رہے
اُس سے نسبت تھی جیسے شب و ماہ سی
نِت نئے طور سے ہم نکھرتے رہے
تن بدن اُس کا اِک لوح تھا جس پہ ہم
حرفِ تازہ بنے نِت اُبھرتے رہے
جیسے اُس کی مہک ہی سے سرشار تھے
پاس سے جو بھی جھونکے گزرتے رہے
ہم کو یک جا کیا اُس زرِ خاص نے
ہم کہ سیماب آسا بکھرتے رہے
نشۂ قرب سے جیسے باہم دگر
جان و دل میں، رگوں میں اُترتے رہے
اَب تو اپنا ہے ماجدؔ وُہ جس کے لئے
ہم بصد آرزُو روز مرتے رہے
ماجد صدیقی

ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 121
گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں
ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں
ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا
دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں
دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا
سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں
یعنی کیا کچھ بُھلا دیا ہم نے
اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں
ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے
ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں
ہے عجب اس کا حالِ ہجر کہ ہم
گاہے گاہے سنورتے رہتے ہیں
دل کے سب زخم پیشہ ور ہیں میاں
آن ہا آن بھرتے رہتے ہیں
جون ایلیا

دو بجے رات کے، سورج کو اُبھرتے دیکھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 71
اُس کی جرات کو عجب معجزہ کرتے دیکھا
دو بجے رات کے، سورج کو اُبھرتے دیکھا
تختۂِ دار پہ اقرار کے اکے لمحے نے
اپنی دہلیز پہ صدیوں کو ٹھہرتے دیکھا
آج جو ہو گیا سُولی کے بھنور میں روپوش
چشمِ فردا نے اُسے پار اُترتے دیکھا
اپنے مرنے کا لیا موت سے پہلے بدلہ
یوں بھی ہم نے کسی سفاک کو مرتے دیکھا
کر گئیں گِر کے اُسے اپنی فصیلیں عریاں
شہر کا شہر ہواؤں میں بکھرتے دیکھا
جبر کی چھاؤنی میں قہر کا سناٹا تھا
دیوار سے سے آواز کو ڈرتے دیکھا
دور کی ڈوریوں سے خود بھی وہ پا بستہ تھا
ہم نے پُتلی کا تماشا جسے کرتے دیکھا
رات کی خاک سے پھوٹا گُلِ منظر ایسا
سو بہ سو ایک مشفق زار نکھرتے دیکھا
آفتاب اقبال شمیم

چاہنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 233
تم نے یہ لمحہ گزرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
چاہنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
سطح پر عکس تو بنتے ہوئے دیکھے ہوں گے
نقش پانی پہ ٹھہرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
جسم کی آگ کے انجام کی تمثیل بتاؤں
خاک پر خاک بکھرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
کچھ تو ہے وادئ ہو میں کہ لرزتا ہوں میں
ورنہ تم نے مجھے ڈرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
عرفان صدیقی

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 30
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
مرا خط پھینک کر قاتل کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں
ابھی اے جاں تو نے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں
قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں
جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آ کے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں
چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں
قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
حباب آ سا ٹھہرتے ہیں تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں
امیر مینائی