ٹیگ کے محفوظات: مرتبہ

جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 32
سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا
کیسے نامانوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اس کو کتنی مشکلوں سے ترجمہ میں نے کیا
وہ مری پہلی محبت وہ مری پہلی شکست
پھر تو پیمان وفا سو مرتبہ میں نے کیا
ہوں سزاوار سزا کیوں جب مقدر میں مرے
جو بھی اس جانِ جہاں نے لکھ دیا میں نے کیا
احمد فراز

خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 187
بنے یہ زہر ہی وجہِ شفا، جو تو چاہے
خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے
یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں
ہوائے شام میں مہکیں ذرا، جو تو چاہے
تجھے تو علم ہے، کیوں میں نے اس طرح چاہا
جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا، جو تو چاہے
جب ایک سانس گھسے، ساتھ ایک نوٹ پسے
نظامِ زر کی حسیں آسیا، جو تو چاہے
بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد
اب اے اسیرِ کمندِ ہوا، جو تو چاہے
ذرا شکوہِ دو عالم کے گنبدوں میں لرز
پھر اس کے بعد ترا فیصلہ، جو تو چاہے
سلام ان پہ، تہہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجد
کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ، جو تو چاہے
مجید امجد