ٹیگ کے محفوظات: مرا

پتھر بدن، صبا کی ادا کاٹتی رہی

مجھ کو مرے چمن کی فضا کاٹتی رہی
پتھر بدن، صبا کی ادا کاٹتی رہی
عُمرِ اُداس صدیوں سے کیا کاٹتی رہی
پیہم سفر، سفر سے سوا کاٹتی رہی
میری بصارتیں تو مرے دل میں تھیں نہاں
اشکوں کی دھار! تُو بھی یہ کیا کاٹتی رہی؟
اظہار کے جنوں نے نہ جینے کبھی دیا
اک پھانس تھی الگ، جو گلا کاٹتی رہی
آتے ہوئے زمانوں سے جب گفتگو ہوئی
میری ہر ایک بات ہوا کاٹتی رہی
آنسو نے میرے کتنے گگن رنگ سے بھرے
اک بوند ہر کرن کا گلا کاٹتی رہی
صدیوں سے میَں نہ کاٹ سکا عمرِ ناتمام
اِک پل کی عمر مُجھ کو سدا کاٹتی رہی
تکمیل کی طلب نے ادھورا کیا مجھے
لکھا ہر ایک شعر مرا کاٹتی رہی
یاور ماجد

یہ سب تو ہونا ہی تھا

میں بھٹکا، بھُولا ہی تھا
یہ سب تو ہونا ہی تھا
میں بھٹکا بھولا ہی سہی
پر کیا وہ رستہ ہی تھا؟
ہم سے دوست سلوک ترا
کیا کہتے!۔۔۔ اچھا ہی تھا
یہ جو پل گزرا ہے ابھی
کیا گزرا پورا ہی تھا؟
توڑ دیا کس نے اس کو؟
غنچہ ابھی چٹخا ہی تھا
اتنا وزن تھا پھولوں کا
ڈال نے تو جھکنا ہی تھا
دردِ دل! اے دردِ عزیز!
تو کیا درد مرا ہی تھا؟
جو بھی اس نے ہم کو دیا
واپس تو لینا ہی تھا
روشنیاں کب تک رہتیں
سورج تھا! ڈھلنا ہی تھا
ڈوبتے سورج سے میرا
روز کا سمجھوتا ہی تھا
کرتا تھا میں خود پہ ستم
اور کرتا بے جا ہی تھا
ہر اک رستہ تھا صحرا!!
صحرا تھا!!! صحرا ہی تھا
آنکھوں میں کب تک رہتا
آنسو تھا، گرنا ہی تھا
یہ جو آخری آنسو گرا
یوں سمجھو، پہلا ہی تھا
یاؔور جیسے کتنے ہیں
جونؔ مگر یکتا ہی تھا
یاور ماجد

کیا خبر، کون جیا کون مرا، کیا معلوم

راہ میں کون ہوا کس سے جدا، کیا معلوم
کیا خبر، کون جیا کون مرا، کیا معلوم
اتنا تو یاد ہے اک جاں تھی کئی قالب تھے
کس نے پھر کس سے کیا کس کو جدا، کیا معلوم
جانے وہ دشت تھا، صحرا تھا کہ گلشن میرا
اب بھی واں چلتی ہے کیا بادِ صبا؟ کیا معلوم
شب ڈھلی اور نہ پھر آئی سحر ہی مڑ کر
وقت سے ہو گئی کیسی یہ خطا، کیا معلوم
بارہا دل سے یہ پوچھا کہ ہوئی کیا دھڑکن
بارہا دل سے یہی آئی صدا، کیا معلوم
غم کے تپتے ہوئے صحراؤں میں تھا آبِ حیات
کیسے گم ہو گیا وہ اشک مرا، کیا معلوم
خیر ہے شر کہ ہے شر خیر بھلا کس کو خبر
کیا کہیں کیسی جزا، کیسی سزا، کیا معلوم
کرچیاں جوڑتے اک عمر ہوئی ہے مجھ کو
مجھ میں کیا ٹوٹ گیا میرے سوا، کیا معلوم
داستاں دل کی سنانے کو کبھی یاؔور نے
نظم لکھی یا کوئی شعر کہا؟ کیا معلوم
یاور ماجد

ہالہ قمر کے گرد جو تھا، تنگ تر ہوا

پاؤں میں تنگ حلقہ ذرا تنگ تر ہوا
ہالہ قمر کے گرد جو تھا، تنگ تر ہوا
سب وُسعتیں لکھی گئیں اس کے نصیب میں
ہر ایک تنگ رستہ مرا تنگ تر ہوا
ٹوٹا ستارہ اور ہزاروں میں بٹ گیا
سمٹے ہوئے گگن کا خلا تنگ تَر ہوا
پاؤں میں اپنے حلقۂ زنجیر دیکھ کر
دم اور گھٹ گیا ہے گلا تنگ تَر ہوا
لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گئی گردشِ درُوں
لیکن مدار مجھ کو عطا تنگ تَر ہوا
کھلتی گئیں جہات کئی میری راہ میں
جُوں جُوں ہر ایک رستہ مرا تنگ تَر ہوا
یاور ماجد

یار تک، بے وفا نِرا نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
ربطِ باہم کا یہ سِرا نکلا
یار تک، بے وفا نِرا نکلا
کھیل میں ٹیڑھ جو، قصور تھا جو
اور کسی کا نہیں مِرا نکلا
ہوشمند اِک مجھے ہی رہنا تھا
جو مِلا مجھ سے سرپِھرا نکلا
جتنا پیندا تھا دل کی ناؤ کا
آبِ دشمن میں ہی گِھرا نکلا
جو مزہ قُربِ دوستاں کا تھا
آخرش وہ بھی کِرکِرا نکلا
تیرا سایہ تلک بھی اے ماجِد!
جانے کیوں مُحتسب ترا نکلا
ماجد صدیقی

تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟

احمد فراز ۔ غزل نمبر 64
شہرِ محبت، ہجر کا موسم، عہد وفا اور میں
تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟
تو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہے
آپس میں کیا باتیں کرتے رات، دیا اور میں
سیرِ چمن عادت تھی پہلے اب مجبوری ہے
تیری تلاش میں‌چل پڑتے ہیں‌ بادِ صبا اور میں
جس کو دیکھو تیری خو میں پاگل پھرتا ہے
ورنہ ہم مشرب تو نہیں‌تھے خلقِ خدا اور میں
ایک تو وہ ہمراز مرا ہے، پھر تیرا مداح
بس تیرا ہی ذکر کیا کرتے ہیں‌ضیا اور میں
ایک زمانے بعد فراز یہ شعر کہے میں‌نے
اک مدت سے ملے نہیں‌ہیں‌یار مرا اور میں
احمد فراز

دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 5
اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا
کچھ تو ہی اثر کر، ترے قربان خموشی!
نالوں سے تو کچھ کام مرا ہو نہیں سکتا
گر غیر بھی ہو وقفِ ستم تو ہے مسلم
کچھ تم سے بجز جور و جفا ہو نہیں سکتا
کھولے گرہِ دل کو ترا ناخنِ شمشیر
یہ کام اجل سے بھی روا ہو نہیں سکتا
سبقت ہو تجھے راہ میں اس کوچے کی مجھ پر
زنہار یہ اے راہ نما! ہو نہیں سکتا
میں نے جو کہا ہمدمِ اغیار نہ ہو جے
تو چیں بہ جبیں ہو کے کہا، ہو نہیں سکتا
یہ رازِ محبت ہے نہ افسانۂ بلبل
محرم ہو مری بادِ صبا، ہو نہیں سکتا
کب طالعِ خفتہ نے دیا خواب میں آنے
وعدہ بھی کیا وہ کہ وفا ہو نہیں سکتا
وہ مجھ سے خفا ہے تو اسے یہ بھی ہے زیبا
پر شیفتہ میں اس سے خفا ہو نہیں سکتا
مصطفٰی خان شیفتہ

دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 30
دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند
دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند
موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیری
ہر غم میں گرفتار ہوں ہر فکر میں پابند
اے حضرت دل !جائیے، میرا بھی خدا ہے
بے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند
دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو
بارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
کہتے تھے ہم ۔ اے داغ وہ کوچہ ہے خطرناک
چھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
داغ دہلوی

ہم برے ہی سہی بھلا صاحب

دیوان دوم غزل 775
جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
ہم برے ہی سہی بھلا صاحب
سادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تم
اب تو ہیں حرف آشنا صاحب
نہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیں
کیا کیا ہائے یہ خدا صاحب
بندگی ایک اپنی کیا کم ہے
اور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب
مہرافزا ہے منھ تمھارا ہی
کچھ غضب تو نہیں ہوا صاحب
خط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہ
اپنے طالع کا یہ لکھا صاحب
پھر گئیں آنکھیں تم نہ آن پھرے
دیکھا تم کو بھی واہ وا صاحب
شوق رخ یاد لب غم دیدار
جی میں کیا کیا مرے رہا صاحب
بھول جانا نہیں غلام کا خوب
یاد خاطر رہے مرا صاحب
کن نے سن شعر میر یہ نہ کہا
کہیو پھر ہائے کیا کہا صاحب
میر تقی میر

کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 41
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا ٹھہرے
تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سے
تڑپنے کو کہا تڑپے ، ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے
زہے قسمت حسینوں کی بُرائی بھی بھلائی ہے
کریں یہ چشم پوشی بھی تو نظروں میں حیا ٹھہرے
یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میں
دھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے
حقیقت کھول دی آئینہ وحدت نے دونوں کی
نہ تم ہم سے جدا ٹھہرے ، نہ ہم تم سے جدا ٹھہرے
دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھے
ذرا بہکے ذرا سنبھلے ذرا تڑپے ذرا ٹھہرے
شب وصلت قریب آنے نہ پائے کوئی خلوت میں
ادب ہم سے جدا ٹھہرے حیا تم سے جدا ٹھہرے
اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو
کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے
ابھی جی بھر کے وصل یار کی لذت نہیں اٹھی
کوئی دم اور آغوش اجابت میں دعا ٹھہرے
خیال یار آنکلا مرے دل میں تو یوں بولا
یہ دیوانوں کی بستی ہے یہاں میری بلا ٹھہرے
امیر آیا جو وقت بد تو سب نے راہ لی اپنی
ہزاروں سیکڑوں میں درد و غم دو آشنا ٹھہرے
امیر مینائی