ٹیگ کے محفوظات: مدّعی

ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا
ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا
کھِلتے ہوئے لبوں پر مُہریں لگا کے بیٹھیں
تھا کیا یہی تقاضا ہم سے کلی کلی کا
اَب آنکھ بھی جو اُٹھے، جی کانپتا ہے اپنا
کیا حشر کر لیا ہے ہمّت رہی سہی کا
پھر سنگ بھی جو ہوتی اپنی زباں تو کیا تھا
دعوےٰ اگر نہ ہوتا ہم کو سخنوری کا
بستر لپیٹ کر ہم اُٹھ جائیں رہ سے اُس کی
مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو مدّعی کا
ماجدؔ لبوں کے غنچے چٹکے دھُواں اُگلتے
تھا یہ بھی ایک پہلو افسردہ خاطری کا
ماجد صدیقی

دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 19
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا
پوچھتے کیا ہو کیوں لگائی دیر
اک نئے آدمی سے ملنا تھا
مل کے غیروں سے بزم میں یہ کہا
مجھ کو آ کر سبھی سے ملنا تھا
عید کو بھی خفا خفا ہی رہے
آج کے دن خوشی سے ملنا تھا
آپ کا مجھ سے جی نہیں‌ملتا
اس محبت پہ جی سے ملنا تھا
تم تو اُکھڑے رہے تمہیں اے داغ
ہر طرح مدّعی سے ملنا تھا
داغ دہلوی