ٹیگ کے محفوظات: مدنیہ

ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 29
جس سے شاداب رہتا ہے جینا مرا
ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا
اس کی خوشنودیوں کی کہانی رہے
ہر عمل ہر ادا ہر قرینہ مرا
کعبہِ اسمِ کن کے کہیں آس پاس
آسمانو! زمیں پر خزنیہ مرا
جسم درجسم بس بھیڑیوں کی طرح
کس نے پنجوں سے چیرا ہے سینہ مرا
کس نے پھانسی چڑھایامرے خواب کی
کون ہے جس نے لوٹا مدنیہ مرا
حیف منصور !حاصل سے محروم ہے
خون کی طرح بہتا پسینہ مرا
منصور آفاق