ٹیگ کے محفوظات: مدام

فاقہ مستی مدام کرتا ہوں

دیوان پنجم غزل 1702
مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
فاقہ مستی مدام کرتا ہوں
کوئی ناکام یوں رہے کب تک
میں بھی اب ایک کام کرتا ہوں
یا تو لیتا ہوں داد دل یا اب
کام اپنا تمام کرتا ہوں
میر تقی میر

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے

دیوان اول غزل 608
جس جگہ دور جام ہوتا ہے
واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے
ہم تو اک حرف کے نہیں ممنون
کیسا خط و پیام ہوتا ہے
تیغ ناکاموں پر نہ ہر دم کھینچ
اک کرشمے میں کام ہوتا ہے
پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش
روز ان کا بھی شام ہوتا ہے
زخم بن غم بن اور غصہ بن
اپنا کھانا حرام ہوتا ہے
شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان
جس پہ شب احتلام ہوتا ہے
قتل کو میں کہا تو اٹھ بولا
آج کل صبح و شام ہوتا ہے
آخر آئوں گا نعش پر اب آ
کہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر
جیسے کوئی غلام ہوتا ہے
میر تقی میر