ٹیگ کے محفوظات: مخدوم

اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 305
گم تھے سرگم لاکھ اس کے چہرہ ء معصوم میں
اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں
رات کے بستر پہ خالی جسم اپنا پھینک کر
روح پھر رہنے چلی ہے ماضی ء مرحوم میں
ایک فوٹو پر اچانک پڑ گئی میری نظر
اور میں بہتا گیا پھر نغمۂ کلثوم میں
بن رہی ہیں ہر قدم پر رات کا اک دائرہ
اک تھکے سورج کی کرنیں قریۂ معدوم میں
چار بھیڑیں ایک بکری ایک گائے ایک میں
اور رکھوالی کو چرواہی شبِ مخدوم میں
جل پری آگے بڑھی شوقِ وصال انگیز سے
اور میں لوٹ آیا یکدم ساعتِ معلوم میں
دل دھڑکتا جا رہا ہے دیکھئے منصور کا
اک تھکی ہاری غزل کے پیکرِ منظوم میں
منصور آفاق

رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 269
وہ آنجہانی پاؤں وہ مرحوم ایڑیاں
رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں
ہر انچ دکھ پڑے ہیں گئی گزری دھول کے
ہر فٹ زمیں کے ماتھے کا مقسوم ایڑیاں
ہر روز تارکول کی سڑکیں بناتی ہیں
ہاری ہوئی پھٹی ہوئی محروم ایڑیاں
غالب تھا ہمسفر سو اذیت بہت ہوئی
کہتی ہیں دو اٹھی ہوئی مظلوم ایڑیاں
سنگیت کے بہاؤ پہ شاید صدا کا رقص
گوگوش کی سٹیج پہ مرقوم ایڑیاں
پیاسا کہیں فرات کا ساحل پڑا رہے
چشمہ نکال دیں کہیں معصوم ایڑیاں
چلنے لگے ہیں پنکھے ہواؤں کے دشت میں
ہونے لگی ہیں ریت پہ معدوم ایڑیاں
پاتال کتنے پاؤں ابھی اور دور ہیں
ہر روز مجھ سے کرتی ہیں معلوم ایڑیاں
لکھنے ہیں نقشِ پا کسی دشتِ خیال میں
تانبا تپی زمین ! مری چوم ایڑیاں
منصور میرے گھر میں پہنچتی ہیں پچھلی رات
اڑتی ہے جن سے دھوپ وہ مخدوم ایڑیاں
منصور آفاق