ٹیگ کے محفوظات: محروم

واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم

دیوان ششم غزل 1837
کھا گئی یاں کی فکر سو موہوم
واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم
وصل کیونکر ہو اس خوش اختر کا
جذب ناقص ہے اور طالع شوم
نہ ہوئے تھے ابھی جواں افسوس
صبر مغفور و طاقت مرحوم
جب غبار اپنے دل کا نکلے ہے
دیر رہتی ہے آندھی کی سی دھوم
بھیگی اس کی مسوں کی خوبی سے
بے حواسی ہے ہم کو جوں مسموم
ہے عبث یہ تردد و تشویش
پہنچے ہے وقت پر جو ہے مقسوم
ہاتھ سے وے گئے جو سیمیں ساق
ہم رہے سر بہ زانوے مغموم
صاحب اپنا ہے بندہ پرور میر
ہم جہاں سے نہ جائیں گے محروم
میر تقی میر

رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 269
وہ آنجہانی پاؤں وہ مرحوم ایڑیاں
رقاصہ کی دکھائی دیں منظوم ایڑیاں
ہر انچ دکھ پڑے ہیں گئی گزری دھول کے
ہر فٹ زمیں کے ماتھے کا مقسوم ایڑیاں
ہر روز تارکول کی سڑکیں بناتی ہیں
ہاری ہوئی پھٹی ہوئی محروم ایڑیاں
غالب تھا ہمسفر سو اذیت بہت ہوئی
کہتی ہیں دو اٹھی ہوئی مظلوم ایڑیاں
سنگیت کے بہاؤ پہ شاید صدا کا رقص
گوگوش کی سٹیج پہ مرقوم ایڑیاں
پیاسا کہیں فرات کا ساحل پڑا رہے
چشمہ نکال دیں کہیں معصوم ایڑیاں
چلنے لگے ہیں پنکھے ہواؤں کے دشت میں
ہونے لگی ہیں ریت پہ معدوم ایڑیاں
پاتال کتنے پاؤں ابھی اور دور ہیں
ہر روز مجھ سے کرتی ہیں معلوم ایڑیاں
لکھنے ہیں نقشِ پا کسی دشتِ خیال میں
تانبا تپی زمین ! مری چوم ایڑیاں
منصور میرے گھر میں پہنچتی ہیں پچھلی رات
اڑتی ہے جن سے دھوپ وہ مخدوم ایڑیاں
منصور آفاق