ٹیگ کے محفوظات: محجوب

ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم
روز جینے کا نیا اِک تجربہ درپیش ہے
روز اِک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم
کھُل کے آنا ہی پڑا آخر سرِ میداں ہمیں
یُوں تو رہنے کو رہے ہیں مُدّتوں محجوب ہم
وہ کھُلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا
ضد پہ اُترے بھی تو اِک دن اُس سے نپٹے خوب ہم
شوخیِ طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی
جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم
یہ بھی گر شرطِ سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن
شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم
ماجد صدیقی

آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا

دیوان سوم غزل 1082
گل بھی ہے معشوق لیکن کب ہے اس محبوب سا
آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا
اس کے وعدے کی وفا تک وہ کوئی ہووے گا جو
ہو معمر نوحؑ سا صابر ہو پھر ایوبؑ سا
عشق سے کن نے مرے آگہ کیا اس شوخ کو
اب مرے آنے سے ہوجاتا ہے وہ محجوب سا
بعد مردن یہ غزل مطرب سے جن نے گوش کی
گور کے میری گلے جا لگ کے رویا خوب سا
عاقلانہ حرف زن ہو میر تو کریے بیاں
زیر لب کیا جانیے کہتا ہے کیا مجذوب سا
میر تقی میر

کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو

دیوان دوم غزل 915
بدزباں ہو جیسے خوش اسلوب ہو
کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو
بے نقابی اس کی ہے ہم پر ستم
لایئے منھ پر تو وہ محجوب ہو
ایسا شہر حسن ہی ہے تازہ رسم
دوستی باہم جہاں معیوب ہو
مطلب عمدہ ہے دل لے تو رکھو
گاہ باشد تم کو بھی مطلوب ہو
چاہیے ہے اور کچھ عاشق کو کیا
جان کا خواہاں اگر محبوب ہو
لوہو پینا جان کھانا دیکھیے
کیا مزاج عشق میں مرغوب ہو
جو کہو ہو سو مخالف عقل کے
میر صاحب تم مگر مجذوب ہو
میر تقی میر

اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں

دیوان اول غزل 305
دعوے کو یار آگے معیوب کرچکے ہیں
اس ریختے کو ورنہ ہم خوب کرچکے ہیں
مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو
اس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کرچکے ہیں
حسن کلام کھینچے کیونکر نہ دامن دل
اس کام کو ہم آخر محبوب کرچکے ہیں
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہو گا
ہم اس طرح کے کتنے آشوب کرچکے ہیں
رنگ پریدہ قاصد بادسحر کبوتر
کس کس کے ہم حوالے مکتوب کرچکے ہیں
تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریے
آگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کرچکے ہیں
ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کا
غالب کہ طبع دل کو مغلوب کرچکے ہیں
کیا جانیے کہ کیا ہے اے میر وجہ ضد کی
سو بار ہم تو اس کو محجوب کرچکے ہیں
میر تقی میر