ٹیگ کے محفوظات: محبت

مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 17
دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا
اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو
کچھ تو لازم ہُوا وحشت کرنا
جُرم کس کا تھا سزا کِس کو مِلی
کیا گئی بات پہ حُجت کرنا
کون چاہے گا تمھیں میری طرح
اب کِسی سے نہ محبت کرنا
گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے
وقت مِل جائے تو زحمت کرنا
پروین شاکر

سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 138
کسی نو گرفتارِ الفت کے دل پر یہ آفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
عدو کی شکایت سنے جا رہے ہو نہ برہم طبیعت نہ بل ابروؤں پر
نظر نیچی نیچی لبوں پر تبسم محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مری قبر ٹھوکر سے ٹھکرا رہا ہے پسِ مرگ ہوتی ہے برباد مٹی
ترے دل میں میری طرف سے سِتمگر کدورت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
بتِ خود نما اور کیا چاہتا ہے تجھے اب بھی شک ہے خدا ماننے میں
ترے سنگِ در پر جبیں میں نے رکھ دی عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
رقیبوں نے کی اور تمھاری شکایت خدا سے ڈرو جھوٹ کیوں بولتے ہو
رقیبوں کے گھر میرا آنا نہ جانا یہ تہمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کبھی ہے جگر میں خلش، ہلکی ہلکی، کبھی درد پہلو میں ہے میٹھا میٹھا
میں پہروں شبِ غم یہی سوچتا ہوں محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کوئی دم کا مہماں ہے بیمارِ فرقت تم ایسے میں بیکار بیٹھے ہوئے ہو
پھر اس پر یہ کہتے ہو فرصت نہیں ہے یہ فرصت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ترے در پہ بے گور کب سے پڑا ہوں نہ فکرِ کفن ہے نہ سامانِ ماتم
اٹھاتا نہیں کوئی بھی میری میت یہ غربت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
میں ان سب میں اک امتیازی نشان ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر بزمِ انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
قمر جلالوی

لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 109
مٹ مٹ کے اب دل میں کوئی حسرت نہیں رہی
لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی
ہو کر عزیز مجھ کو ملاتے ہیں خاک میں
دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی
اے درد تو ہی اٹھ کہ وہ آئیں ہیں دیکھنے
تعظیم کے مریض میں طاقت نہیں رہی
کیونکر نبھے گی بعد مرے یہ خیال ہے
غیروں کے گھر کبھی شبِ فرقت نہیں رہی
دیکھا تھا آج ہم نے قمر کو خدا گواہ
پہلی سی اب غریبوں کی صورت نہیں رہی
قمر جلالوی

حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 46
اب وہ عالم ہے مرا اس بزمِ عشرت کے بغیر
حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر
اصل کی امید ہے بے کار فرقت کے بغیر
آدم راحت نہیں پاتا مصیبت کے بغیر
مجھ کو شکوہ ہے ستم کا تم کو انکارِ ستم
فیصلہ یہ ہو نہیں سکتا قیامت کے بغیر
دے دعا مجھ کو کہ تیرا نام دنیا بھر میں ہے
حسن کی شہرت نہیں ہوتی محبت کے بغیر
حضرتِ ناصح بجا ارشاد، گستاخی معاف
آپ سمجھاتے تو ہیں لیکن محبت کے بغیر
یہ سمجھ کر دل میں رکھا ہے تمھارے تیر کو
کوئی شے قائم نہیں رہتی حفاظت کے بغیر
راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے
ل دیے منہ پھیر کر صاحب سلامت کے بغیر
سن رہا ہوں طعنہ اخیار لیکن کیا کروں
میں تری محفل میں آیا ہوں اجازت کے بغیر
دل ہی پر موقوف کیا او نا شناسِ دردِ دل!
کوئی بھی تڑپا نہیں کرتا اذیت کے بغیر
قمر جلالوی

ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 42
حسن کی تم پر حکومت ہو گئی
ضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی
یہ نہ پوچھو کیوں یہ حالت ہو گئی
خود بدولت کی بدولت ہو گئی
لے گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ دل
ہوشیاری اپنی غفلت ہو گئی
وہ جو تجھ سے دوستی کرنے لگا
مجھ کو دشمن سےمحبت ہو گئی
اس قدر بھی سادگی اچھی نہیں
عاشقوں کی پاک نیت ہو گئی
مان کر دل کا کہا پچھتائے ہم
عمر بھر کو اب نصیحت ہو گئی
کیا عجب ہے گر ترا ثانی نہیں
اچھی صورت ایک صورت ہو گئی
غیر بھی روتے ہیں تیرے عشق میں
کیا مری قسمت کی قسمت ہو گئی
اس کی مژگاں پر ہوا قربان دل
تیر تکّوں پر قناعت ہو گئی
جب ریاست اپنی آبائی مٹی
نوکری کی ہم کو حاجت ہو گئی
شاعروں کی بھی طبیعت ہے ولی
جو نئی سوجھی کرامت ہو گئی
تیری زلفوں کا اثر تجھ پر نہیں
دیکھتے ہی مجھ کو وحشت ہو گئی
کھیل سمجھے تھے لڑکپن کو تیرے
بیٹھتے اٹھتے قیامت ہو گئی
مفت پیتے ہیں وہ ہر قسم کی
جن کو مے خانے کی خدمت ہو گئی
میرے دل سے غم ترا کیوں‌دور ہو
پاس رہنے کی محبت ہو گئی
کہتے ہیں کب تک کوئی گھبرا نہ جائے
دل میں رہتے رہتے مدت ہو گئی
نقشہ بگڑا رہتے رہتے غصّہ ناک
کٹ کھنی قاتل کی صورت ہو گئی
داغ کا دم ہے غنیمت بزم میں
دو گھڑی کو گرم محبت ہو گئی
داغ دہلوی

نیند آنے لگی ہے فرقت میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 101
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کا جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عسرت میں
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگا گئی آگ اس عمارت میں
اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں
خون تھوکا گیا شرارت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں
زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
حاصلِ ’’کُن‘‘ ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
پھر بنایا خدا نے آدم کو
اپنی صورت پہ، ایسی صورت میں
اور پھر آدمی نے غور کیا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں
اے خدا (جو کہیں نہیں موجود)
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں؟
جون ایلیا

جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 73
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ھی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ھی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
جون ایلیا

گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 63
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو
شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا
کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو
چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب
شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو
ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ
گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو
میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی
میرے اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو
یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا
کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو
یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے
وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو
وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا
یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
جون ایلیا

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 28
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا
دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز
دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا
احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں
مجھ سے یہ ترے فتنہء قامت نے کہا تھا
مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی
یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا
دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا
مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا
جون ایلیا

وہ نہیں تھا میری طبیعت کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 17
ناروا ہے سخن شکایت کا
وہ نہیں تھا میری طبیعت کا
دشت میں شہر ہو گئے آباد
اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا
وقت ہے اور کوئی کام نہیں
بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا
بس اگر تذکرہ کروں تو کروں
کس کی زلفوں کا کس کی قامت کا
مر گئے خواب سب کی آنکھوں کے
ہر طرف ہے گلہ حقیقت کا
اب مجھے دھیان ہی نہیں آتا
اپنے ہونے کا ، اپنی حالت کا
تجھ کو پا کر زیاں ہوا ہم کو
تو نہیں تھا ہماری قیمت کا
صبح سے شام تک میری دُنیا
ایک منظر ہے اس کی رخصت کا
کیا بتاؤں کہ زندگی کیا تھی
خواب تھا جاگنے کی حالت کا
کہتے ہیں انتہائے عشق جسے
اک فقط کھیل ہے مروت کا
آ گئی درمیان روح کی بات
ذکر تھا جسم کی ضرورت کا
زندگی کی غزل تمام ہوئی
قافیہ رہ گیا محبت کا
جون ایلیا

اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے

دیوان دوم غزل 1005
ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے
آگے خط سے دماغ تمھارا عرش پہ تھا ہو وے ہی تم
پائوں زمیں پر رکھتے تھے تو خدا پر منت رکھتے تھے
اب تو ہم ہو چکتے ہیں ٹک تیرے ابرو خم ہوتے
کیا کیا رنج اٹھاتے تھے جب جی میں طاقت رکھتے تھے
چاہ کے سارے دیوانے پر آپ سے اکثر بیگانے
عاشق اس کے سیر کیے ہم سب سے جدی مت رکھتے تھے
ہم تو سزاے تیغ ہی تھے پر ظلم بے حد کیا معنی
اور بھی تجھ سے آگے ظالم اچھی صورت رکھتے تھے
آج غزال اک رہبر ہوکر لایا تربت مجنوں پر
قصد زیارت رکھتے تھے ہم جب سے وحشت رکھتے تھے
کس دن ہم نے سر نہ چڑھاکر ساغر مے کو نوش کیا
دور میں اپنے دختر رز کی ہم اک حرمت رکھتے تھے
کوہکن و مجنون و وامق کس کس کے لیں نام غرض
جی ہی سے جاتے آگے سنے وے لوگ جو الفت رکھتے تھے
چشم جہاں تک جاتی تھی گل دیکھتے تھے ہم سرخ و زرد
پھول چمن کے کس کے منھ سے ایسی خجلت رکھتے تھے
کام کرے کیا سعی و کوشش مطلب یاں ناپیدا تھا
دست و پا بہتیرے مارے جب تک قدرت رکھتے تھے
چتون کے کب ڈھب تھے ایسے چشمک کے تھے کب یہ ڈول
ہائے رے وے دن جن روزوں تم کچھ بھی مروت رکھتے تھے
لعل سے جب دل تھے یہ ہمارے مرجاں سے تھے اشک چشم
کیا کیا کچھ پاس اپنے ہم بھی عشق کی دولت رکھتے تھے
کل کہتے ہیں اس بستی میں میر جی مشتاقانہ موئے
تجھ سے کیا ہی جان کے دشمن وے بھی محبت رکھتے تھے
میر تقی میر

رنج و محنت کمال راحت ہے

دیوان اول غزل 583
نالۂ عجز نقص الفت ہے
رنج و محنت کمال راحت ہے
عشق ہی گریۂ ندامت ہے
ورنہ عاشق کو چشم خفت ہے
تا دم مرگ غم خوشی کا نہیں
دل آزردہ گر سلامت ہے
دل میں ناسور پھر جدھر چاہے
ہر طرف کوچۂ جراحت ہے
رونا آتا ہے دم بدم شاید
کسو حسرت کی دل سے رخصت ہے
فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں
قد و قامت ترا قیامت ہے
نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر
دل پہ میرے عجب مصیبت ہے
تو تو نادان ہے نپٹ ناصح
کب موثر تری نصیحت ہے
دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا
کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے
رنج و محنت سے باز کیونکے رہوں
وقت جاتا رہے تو حسرت ہے
کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو
دم غنیمت میاں جو فرصت ہے
تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے
چاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے
تجھ کو مسجد ہے مجھ کو میخانہ
واعظا اپنی اپنی قسمت ہے
ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ
شمع مجلس کی رونی صورت ہے
باطل السحر دیکھ باطل تھے
تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
ابرتر کے حضور پھوٹ بہا
دیدئہ تر کو میرے رحمت ہے
گاہ نالاں طپاں گہے بے دم
دل کی میرے عجب ہی حالت ہے
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی
عاقبت قصۂ محبت ہے
تربت میر پر ہیں اہل سخن
ہر طرف حرف ہے حکایت ہے
تو بھی تقریب فاتحہ سے چل
بخدا واجب الزیارت ہے
میر تقی میر

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

دیوان اول غزل 490
دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے
ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے
عشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچ
اس طرح کے خرج لاحاصل کو دولت چاہیے
عاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیا
آدمی ہووے کسی پیشے میں جرأت چاہیے
ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخن
سامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے
عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگو
قرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے
نازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوس
یاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے
تنگ مت ہو ابتداے عاشقی میں اس قدر
خیریت ہے میر صاحب دل سلامت چاہیے
میر تقی میر

نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی

دیوان اول غزل 443
خبر نہ تھی تجھے کیا میرے دل کی طاقت کی
نگاہ چشم ادھر تونے کی قیامت کی
انھوں میں جوکہ ترے محو سجدہ رہتے ہیں
نہیں ہے قدر ہزاروں برس کی طاعت کی
اٹھائی ننگ سمجھ تم نے بات کے کہتے
وفا و مہر جو تھی رسم ایک مدت کی
رکھیں امید رہائی اسیر کاکل و زلف
مری تو باتیں ہیں زنجیر صرف الفت کی
رہے ہے کوئی خرابات چھوڑ مسجد میں
ہوا منائی اگر شیخ نے کرامت کی
سوال میں نے جو انجام زندگی سے کیا
قد خمیدہ نے سوے زمیں اشارت کی
نہ میری قدر کی اس سنگ دل نے میر کبھو
ہزار حیف کہ پتھر سے میں محبت کی
میر تقی میر

رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا

دیوان اول غزل 122
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا
رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا
زمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہے
یہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہے
نظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا
ہنوز آوارئہ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کی
موئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا
حریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میں
نیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا
نگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہے
نہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا
خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا
کہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری
پڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
قدم ٹک دیکھ کر رکھ میر سر دل سے نکالے گا
پلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحراے محبت کا
میر تقی میر

صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہمیشہ سے کیا ہے رشک میں نے اپنی قسمت پر
صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر
میں اپنی ذات میں آوارہ گردِ دو جہاں ٹھہرا
یہ نثر روز مرّہ بار ہے میری طبیعت پر
مجھے اپنا زیاں کرنے میں اک تسکین ملتی ہے
سمجھتا ہوں کہ اس سے قرض گھٹتا ہے محبت پر
ہر اک بازار اس کی کُنڈلی کا پیچ لگتا ہے
یہ مارِ زرد جو بیٹھا ہوا ہے دل کی دولت پر
آفتاب اقبال شمیم

کہ یہ عالم ترے ہونے کی بدولت ہی تو ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 329
نبضِ عالم میں رواں تیری حرارت ہی تو ہے
کہ یہ عالم ترے ہونے کی بدولت ہی تو ہے
تیرے ہی پیک ہیں سب سچے صحیفوں والے
ان کا آنا ترے آنے کی بشارت ہی تو ہے
ہم تو اک دھوپ کا صحرا تھے جہاں اوس نہ پھول
ہم پہ برسا یہ ترا ابر عنایت ہی تو ہے
پیش کرتا ہے یہی داورِ محشر کے حضور
میرا سرمایہ ترے نام سے نسبت ہی تو ہے
اس فقیری میں کبھی سر نہیں جھکنے پاتا
میرا تکیہ ترا بازوئے حمایت ہی تو ہے
میں بھی گریاں ہوں اسی چوبِ شجر کی مانند
جس میں بھی جاگ اٹھے دردِ محبت ہی تو ہے
عرفان صدیقی

سب سچ ہی سہی، پہلے سماعت میں تو آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 239
جو دل میں ہے وہ حرف و حکایت میں تو آئے
سب سچ ہی سہی، پہلے سماعت میں تو آئے
اب تک جو ترے دست ستم میں ہے وہ تلوار
اک بار مرے دست مروت میں تو آئے
ہم ایسے ہوس کار نہیں جو نہ سدھر جائیں
تھوڑا سا مزہ کار محبت میں تو آئے
مشکل تو یہی ہے کہ قیامت نہیں آتی
قاتل مرا میدان قیامت میں تو آئے
اس نے ابھی دیکھا ہے سر پُل مجھے تنہا
وہ شخص مری رات کی دعوت میں تو آئے
عرفان صدیقی

دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 9
اپنی وحشت کی سنو اذن و اجازت پہ نہ جاؤ
دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ
کتنے ہی دشت و دمن مجھ میں پڑے پھرتے ہیں
صاحبو‘ کوہکن و قیس کی شہرت پہ نہ جاؤ
لاکھ راس آئے مگر کام ہے نادانی کا
تم مرے ماحصلِ کارِ محبت پہ نہ جاؤ
ظرفِ منعم سے بڑا ہے مرا دامانِ طلب
اپنی زر مہریں گنو میری ضرورت پہ نہ جاؤ
اور اک جست میں دیوار سے ٹکرائے گا سر
قید پھر قید ہے زنجیر کی وسعت پہ نہ جاؤ
ہوُ کے صحراؤں میں ان لوگوں کی یاد آتی ہے
ہم سے گھر میں بھی جو کہتے تھے کھلی چھت پہ نہ جاؤ
عرفان صدیقی

نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 446
اس کی حرافہ یاد ہے آفت بنی ہوئی
نیندوں کی بستیوں پہ مصیبت بنی ہوئی
جلتی جہاں تھی آگ وہاں دیکھ تو سہی
اڑتی ہے راکھ، نوحۂ عبرت بنی ہوئی
وہ جمع لوگ ہیں کسی پاگل کے آس پاس
کوئی ہے انقلاب کی صورت بنی ہوئی
لگتا ہے تم ملاؤ گی اس کو بھی خاک میں
تھوڑی سی جو ہے شہر میں عزت بنی ہوئی
وہ اپنی خواہشوں کی ہے تکمیل کا چلن
جو چیز ہے جہاں میں محبت بنی ہوئی
ہر رات نظمِ تازہ اترتی ہے صحن میں
کیاہے جدائی باعثِ برکت بنی ہوئی
منصور رکھ د یا ہے اٹھا کرسٹور میں
پھرتی تھی وہ جو میری ضرورت بنی ہوئی
منصور آفاق

مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 422
صدیوں پہ ہے محیط سکونت کا واقعہ
مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ
ممکن نہیں ہے صبحِ ازل پھر اسے لکھے
جیسا تھا بزمِ شمعِ ہدایت کا واقعہ
ہم اہلِ عشق ہیں سو بڑے جلد باز تھے
عجلت میں ہم نے لکھا محبت کا واقعہ
وہ دلنواز چیخ مری گود میں گری
یہ کاکروچ کی ہے خباثت کا واقعہ
جا خانۂ وراق پہ آواز دے کے دیکھ
مت پوچھ مجھ سے اس کی عنایت کا واقعہ
پاؤں رکھا جہاں پہ وہیں پھول کھل اٹھے
پھیلا ہے سارے دشت میں وحشت کا واقعہ
منصور اعتقاد ضروری سہی مگر
ہونا نہیں ہے کوئی قیامت کا واقعہ
منصور آفاق

شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 226
ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو
ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو
دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو، محبت کم نہ ہونے دو
ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو
مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ ذات میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو
مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو
رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو
منصور آفاق