ٹیگ کے محفوظات: مجذوب

آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا

دیوان سوم غزل 1082
گل بھی ہے معشوق لیکن کب ہے اس محبوب سا
آگے اس قد کے ہے سرو باغ بے اسلوب سا
اس کے وعدے کی وفا تک وہ کوئی ہووے گا جو
ہو معمر نوحؑ سا صابر ہو پھر ایوبؑ سا
عشق سے کن نے مرے آگہ کیا اس شوخ کو
اب مرے آنے سے ہوجاتا ہے وہ محجوب سا
بعد مردن یہ غزل مطرب سے جن نے گوش کی
گور کے میری گلے جا لگ کے رویا خوب سا
عاقلانہ حرف زن ہو میر تو کریے بیاں
زیر لب کیا جانیے کہتا ہے کیا مجذوب سا
میر تقی میر

کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو

دیوان دوم غزل 915
بدزباں ہو جیسے خوش اسلوب ہو
کیا کہیں جو کچھ کہ ہو تم خوب ہو
بے نقابی اس کی ہے ہم پر ستم
لایئے منھ پر تو وہ محجوب ہو
ایسا شہر حسن ہی ہے تازہ رسم
دوستی باہم جہاں معیوب ہو
مطلب عمدہ ہے دل لے تو رکھو
گاہ باشد تم کو بھی مطلوب ہو
چاہیے ہے اور کچھ عاشق کو کیا
جان کا خواہاں اگر محبوب ہو
لوہو پینا جان کھانا دیکھیے
کیا مزاج عشق میں مرغوب ہو
جو کہو ہو سو مخالف عقل کے
میر صاحب تم مگر مجذوب ہو
میر تقی میر

سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 77
جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے
سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے
پھر موسم تمنا، باران اشک لایا
خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے
اُس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید
ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے
نکلے کشید ہو کر، لب کی گلاہیوں سے
ایسے سخن کی تلخی مرغوب سی لگے ہے
جس رخ سے منعکس ہوں کرنیں دو چند ہو کر
ہر چیز اُس کے آگے معیوب سی لگے ہے
خود کو چھپائے رکھے آنکھوں کی اوڑھنی میں
وُہ بے حجابیوں میں محبوب سی لگے ہے
ہر وقت دھیان میں ہے اور دھیان سے پرے بھی
یہ زندگی تو ہم کو مجذوب سی لگے ہے
آفتاب اقبال شمیم