ٹیگ کے محفوظات: مانی

اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
ابر بردوشِ ہوا رہ کر بھی پانی ہو گیا
اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا
لطفِ باراں سے، شگفتِ گُل سے جو منسوب تھا
ہاں وہی مضموں ادا میری زبانی ہو گیا
وہ کہ کہلاتا رہا تھا لالۂ صحرا کبھی
رنگ و خوشبو کی کشش سے میرا جانی ہو گیا
اُس نے اہلِ خاک سے پھر رابطہ رکھا نہیں
جس کو کچھ رفعت ملی وہ آسمانی ہو گیا
خواب میں اکثر لگا ایسا کہ صبح جاگتے
میں بھی اوروں کی طرح قصّہ کہانی ہو گیا
کھو کے سارے رنگ گردآلود، زنگ آلود سا
دل بھی ہے گزرے زمانوں کی نشانی ہو گیا
ہاں وہی ماجِد کہ تھا صورت گرِ جذبات جو
مانتے ہیں سب کہ ہے بہزاد و مانی ہو گیا
ماجد صدیقی

بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 88
نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی
بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی
خدائی کی ہے یہ ضد اے بت یہ نادانی نہیں جاتی
زبردستی کی منوائی ہوئی مانی نہیں جاتی
ہزاروں بار مانی حسن نے ان کی وفاداری
مگر اہلِ محبت ہیں کہ قربانی نہیں جاتی
سحر کے وقت منہ کلیوں نے کھولا ہے پئے شبنم
ہوا ٹھنڈی ہے مگر پیاس بے پانی نہیں جاتی
قمر کل ان کے ہونے سے ستارے کتنے روشن تھے
وہی یہ رات ہے جو آج پہچانی نہیں جاتی
قمر جلالوی

ساری دنیا فقط کہانی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 210
دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے
تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے
سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے
اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے
تھا سوال ان کی اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے
کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے
ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے
زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے
جون ایلیا

پائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 235
نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب
پائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
تو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانے
غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
وہ تبِ@ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمع
شعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے
@ تپ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی

دیوان پنجم غزل 1738
ملو ان دنوں ہم سے اک رات جانی
کہاں ہم کہاں تم کہاں پھر جوانی
شکایت کروں ہوں تو سونے لگے ہے
مری سرگذشت اب ہوئی ہے کہانی
ادا کھینچ سکتا ہے بہزاد اس کی
کھنچے صورت ایسی تو یہ ہم نے مانی
ملاقات ہوتی ہے تو کشمکش سے
یہی ہم سے ہے جب نہ تب اینچا تانی
بسنتی قبا پر تری مر گیا ہے
کفن میر کو دیجیو زعفرانی
میر تقی میر

سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی

دیوان چہارم غزل 1503
سنو سرگذشت اب ہماری زبانی
سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی
بہت نذریں مانیں کہ مانے گا کہنا
ولیکن مری بات ہرگز نہ مانی
بہت مو پریشاں کھپے اس کے غم میں
خدا جانے ہے بید کس کی نشانی
گیا بھول جی شیب میں جو ہمارا
بہت یاد آئی گئی وہ جوانی
توقع نہیں یاں تک آنے کی ان سے
اگر لطف مجھ پر کریں مہربانی
گری ضبط گریہ سے دل کی عمارت
ہوئی چشم تر اس خرابی کی بانی
ملا دیتی ہے خاک میں آدمی کو
محبت ہے کوئی بلا آسمانی
گرامی گہر میر جی تھا ہمارا
ولے عشق میں قدر ہم نے نہ جانی
میر تقی میر

ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے

دیوان سوم غزل 1267
سب شرم جبین یار سے پانی ہے
ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے
سمجھے نہ کہ بازیچۂ اطفال ہوئے
لڑکوں سے ملاقات ہی نادانی ہے
جوں آئینہ سامنے کھڑا ہوں یعنی
خوبی سے ترے چہرے کی حیرانی ہے
خط لکھتے جو خوں فشاں تھے ہم ان نے کہا
کاغذ جو لکھے ہے اب سو افشانی ہے
دوزخ میں ہوں جلتی جو رہے ہے چھاتی
دل سوختگی عذاب روحانی ہے
منت کی بہت تو ان نے دو حرف کہے
سو برسوں میں اک بات مری مانی ہے
کل سیل سا جوشاں جو ادھر آیا میر
سب بولے کہ یہ فقیر سیلانی ہے
میر تقی میر

دوستی مدعی جانی تھی

دیوان دوم غزل 956
یار بن تلخ زندگانی تھی
دوستی مدعی جانی تھی
سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو
عمر برباد یوں ہی جانی تھی
لطف پر اس کے ہم نشیں مت جا
کبھو ہم پر بھی مہربانی تھی
ہاتھ آتا جو تو تو کیا ہوتا
برسوں تک ہم نے خاک چھانی تھی
شیب میں فائدہ تامل کا
سوچنا تب تھا جب جوانی تھی
میرے قصے سے سب کی گئیں نیندیں
کچھ عجب طور کی کہانی تھی
عاشقی جی ہی لے گئی آخر
یہ بلا کوئی ناگہانی تھی
اس رخ آتشیں کی شرم سے رات
شمع مجلس میں پانی پانی تھی
پھر سخن نشنوی ہے ویسی ہی
رات ایک آدھ بات مانی تھی
کوے قاتل سے بچ کے نکلا خضر
اسی میں اس کی زندگانی تھی
فقر پر بھی تھا میر کے اک رنگ
کفنی پہنی سو زعفرانی تھی
میر تقی میر

اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

دیوان دوم غزل 949
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کرکے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پائوں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرور خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے
دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
میر تقی میر

کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی

دیوان اول غزل 447
الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی
کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی
چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا ہائے
جہاں میں ہم نے قفس ہی میں زندگانی کی
ملائی خوب مری خوں میں خاک بسمل گاہ
یہ تھوڑی منتیں ہیں مجھ پہ سخت جانی کی
بتنگ ہوں میں ترے اختلاط سے پیری
قسم ہے اپنی مجھے اس گئی جوانی کی
چلا ہے کھینچنے تصویر میرے بت کی آج
خدا کے واسطے صورت تو دیکھو مانی کی
تری گلی کے ہر اک سگ نے استخواں توڑے
ہماری لاش کی شب خوب پاسبانی کی
رکھے ہیں میر ترے منھ سے بے وفا خاطر
تری جفا کی تغافل کی بدگمانی کی
میر تقی میر

مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 38
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی
متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سر خسرو سے نازکجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
فیض احمد فیض