ٹیگ کے محفوظات: مارا

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

دیوان پنجم غزل 1736
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آجانے کو یکایک عمر دوبارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منھ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دمدار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
میر تقی میر

چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل

دیوان پنجم غزل 1669
دل دل لوگ کہا کرتے ہیں تم نے جانا کیا ہے دل
چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل
اوج و موج کا آشوب اس کے لے کے زمیں سے فلک تک ہے
صورت میں تو قطرئہ خوں ہے معنی میں دریا ہے دل
جیسے صحرا کو کشادہ دامن ہم تم سنتے آتے ہیں
بند کر آنکھیں ٹک دیکھو تو ویسا ہی صحرا ہے دل
کوہکن و مجنوں وامق تم جس سے پوچھو بتا دیوے
عشق و جنوں کے شہروں میں ہر چار طرف رسوا ہے دل
ہائے غیوری دل کی اپنے داغ کیا ہے خود سر نے
جی ہی جس کے لیے جاتا ہے اس سے بے پروا ہے دل
مت پوچھو کیوں زیست کرو ہو مردے سے افسردہ تم
ہجر میں اس کے ہم لوگوں نے برسوں تک مارا ہے دل
میر پریشاں دل کے غم میں کیا کیا خاطرداری کی
خاک میں ملتے کیوں نہ پھریں اب خون ہو بہ بھی گیا ہے دل
میر تقی میر

زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج

دیوان پنجم غزل 1589
کس تازہ مقتل پہ کشندے تیرا ہوا ہے گذارا آج
زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج
کل تک ہم نے تم کو رکھا تھا سو پردے میں کلی کے رنگ
صبح شگفتہ گل جو ہوئے تم سب نے کیا نظارہ آج
کوئی نہیں شاہان سلف میں خالی پڑے ہیں دونوں عراق
یعنی خود گم اسکندر ہے ناپیدا ہے دارا آج
چشم مشتاق اس لب و رخ سے لمحہ لمحہ اٹھی نہیں
کیا ہی لگے ہے اچھا اس کا مکھڑا پیارا پیارا آج
اب جو نسیم معطر آئی شاید بال کھلے اس کے
شہر کی ساری گلیاں ہو گئیں گویا عنبر سارا آج
کل ہی جوش و خروش ہمارے دریا کے سے تلاطم تھے
دیکھ ترے آشوب زماں کے کر بیٹھے ہیں کنارہ آج
چشم چرائی دور سے کر وا مجھ کو لگا یہ کہہ کے گیا
صید کریں گے کل ہم آکر ڈال چلے ہیں چارا آج
کل ہی زیان جیوں کے کیے ہیں عشق میں کیا کیا لوگوں نے
سادگی میری چاہ میں دیکھو میں ڈھونڈوں ہوں چارہ آج
میر ہوئے ہو بے خود کب کے آپ میں بھی تو ٹک آئو
ہے دروازے پر انبوہ اک رفتۂ شوق تمھارا آج
میر تقی میر

پھر صبر بن اور کیا ہے چارا

دیوان سوم غزل 1092
ہے عشق میں صبر ناگوارا
پھر صبر بن اور کیا ہے چارا
ان بالوں سے مشک مت خجل ہو
عنبر تو عرق عرق ہے سارا
یوں بات کرے ہے میرے خوں سے
گویا نہیں ان نے مجھ کو مارا
دیکھو ہو تو دور بھاگتے ہو
کچھ پاس نہیں تمھیں ہمارا
تھا کس کو دماغ باغ اس بن
بلبل نے بہت مجھے پکارا
رخسار کے پاس وہ در گوش
ہے پہلوے ماہ میں ستارا
ہوتے ہیں فرشتے صید آکر
آہوے حرم ہیں یاں چکارا
پھولی مجھے دیکھ کر گلوں میں
بلبل کا ہے باغ میں اجارا
جب جی سے گذر گئے ہم اے میر
اس کوچے میں تب ہوا گذارا
میر تقی میر

دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا

دیوان سوم غزل 1061
چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا
دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا
اس کو منظور نہ تھی ہم سے مروت کرنی
ایک چشمک بھی نہ کی ایک اشارہ نہ کیا
بعد دشنام تھی بوسے کی توقع بھی ولے
تلخ سننے کے تئیں ہم نے گوارا نہ کیا
مرکے بے حوصلہ لوگوں میں کہا یافرہاد
چندے پتھر ہی سے سر اور بھی مارا نہ کیا
جی رہے ڈوبتے دریاے غم عشق میں لیک
بوالہوس کی سی طرح ہم نے کنارہ نہ کیا
نیم جاں صدقے کی اس پر نہ زیاں دیکھا نہ سود
ہم تو کچھ دوستی میں وارے کا سارا نہ کیا
لے گیا مٹی بھی دروازے کی ان کے میں میر
پر اطبا نے مرے درد کا چارہ نہ کیا
میر تقی میر

ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا

دیوان دوم غزل 706
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا
دست و پا گم کرنے سے میرے کھلے اسرار عشق
دیکھ کر کھویا گیا سا مجھ کو ہر یک پا گیا
داغ محجوبی ہوں اس کا میں کہ میرے روبرو
عکس اپنا آرسی میں دیکھ کر شرما گیا
ہم بشر عاجز ثبات پا ہمارا کس قدر
دیکھ کر اس کو ملک سے بھی نہ یاں ٹھہرا گیا
یار کے بالوں کا بندھنا قہر ہے پگڑی کے ساتھ
ایک عالم دوستاں اس پیچ میں مارا گیا
ہم نہ جانا اختلاط اس طفل بازی کوش کا
گرم بازی آگیا تو ہم کو بھی بہلا گیا
کیا کروں ناچار ہوں مرنے کو اب تیار میں
دل کی روز و شب کی بیتابی سے جی گھبرا گیا
جی کوئی لگتا ہے اس کے اٹھ گئے پر باغ میں
گل نے بہتیرا کہا ہم سے نہ ٹک ٹھہرا گیا
ہو گئے تحلیل سب اعضا مرے پاکر گداز
رفتہ رفتہ ہجر کا اندوہ مجھ کو کھا گیا
یوں تو کہتا تھا کوئی ویسے کو باندھے ہے گلے
پر وہ پھندنا سا جو آیا میر بھی پھندلا گیا
میر تقی میر

اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے

دیوان اول غزل 521
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے
باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے
ہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے
جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے
ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے
راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر
روے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے
کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں
چشم کو میری آکر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا
آئی نسیم صبح جو ایدھر پھیلا عنبر سارا ہے
کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا
مدت گذری دیکھتے ہم کو میر بھی اک ناکارہ ہے
میر تقی میر

دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہو گا

دیوان اول غزل 54
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہو گا
دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہو گا
اب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاں
وہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہو گا
ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں
ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہو گا
بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواری
امروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہو گا
ہے قاعدئہ کلی یہ کوے محبت میں
دل گم جو ہوا ہو گا پیدا نہ ہوا ہو گا
اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم
یک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہو گا
آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے
جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہو گا
جز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخر
یک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہو گا
صد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوں
آگے تجھے میر ایسا سودا نہ ہوا ہو گا
میر تقی میر

کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
کچھ پہلے اِن آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پو چھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئے
جب موسمِ گُل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا
تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے
جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا
اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے، لیکن اب سے پہلے تو
آنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالمَ سارا گزرے تھا
ایک دکؐنی غزل
فیض احمد فیض

دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 53
جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا
دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا
آگرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر
اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا
ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیر تک
پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا
جا رہا ہے یونہی بس یونہی منزلیں پشت پر باندھ کر
اک سفر زاد اپنے ہی نقشِ قدم پر اتارا ہوا
زندگی اک جُوا خانہ ہے جس کی فٹ پاتھ پر اپنا دل
اک پرانا جواری مسلسل کئی دن کا ہارا ہوا
تم جسے چاند کا دیس کہتے ہو منصور آفاق وہ
ایک لمحہ ہے کتنے مصیبت زدوں کا پکارا ہوا
منصور آفاق