ٹیگ کے محفوظات: ماتھا

رُوح میں تُجھ کو سمایا دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تن بدن لُطف سے نِکھرا دیکھوں
رُوح میں تُجھ کو سمایا دیکھوں
اشک در اشک ہوں عنواں تیرے
آئنوں میں تجھے اُترا دیکھوں
فیصلہ یہ بھی سُنا دے مجھ کو
مَیں ٹھہر جاؤں کہ رستہ دیکھوں
دیکھ کر چاند اُفق پر اُبھرا
تُجھ کو دیکھوں ترا ماتھا دیکھوں
ہاتھ پر لمس کی تحریر تری
ان لبوں سے تُجھے چکھا دیکھوں
کیسا موسم ہے یہ دِل پر ماجدؔ
تہ بہ تہ رنگ یہ کیا کیا دیکھوں
ماجد صدیقی

جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 65
چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں !
جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !
اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات
وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں !
بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا
اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں !
مجھ کو تکمیل سمجھنے والا
اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں !
گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے
دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں !
بند کمرے میں کبھی میری طرح
شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں !
میری خوداری برتنے والے!
تیر اپندار بھی ٹوٹا کہ نہیں !
الوداع ثبت ہُوئی تھی جس پر
اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں !
پروین شاکر