ٹیگ کے محفوظات: ماتمی

ملی ہے فرط میں یاؔور تری کمی مجھ کو

یہ ایک رنج تو رہنا ہے لازمی مجھ کو
ملی ہے فرط میں یاؔور تری کمی مجھ کو
دعا یہی ہے مری زندگی کے صحرا میں
ہرا ہمیشہ رکھے آنکھ کی نمی مجھ کو
یہ خود سے جنگ تو گویا مری سرشت میں ہے
عدو کی ورنہ کہاں تھی کوئی کمی مجھ کو
ہمیشگی یہ ترے ہجر کی بتاتی ہے
خوشی ملے گی کبھی کوئی دائمی مجھ کو
مرے خیال کے روزن میں بیٹھی اک کوئل
سنا تی رہتی ہے دُھن ایک ماتمی مجھ کو
عجیب شخص ہے یاؔور کہے ہے صر صر سے
کبھی عطا ہو سحر کوئی شبنمی مجھ کو
یاور ماجد

عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی

دیوان اول غزل 453
تو گلے ملتا نہیں ہم سے تو کیسی خرمی
عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی
جی بھرا رہتا ہے اب آٹھوں پہر مانند ابر
سینکڑوں طوفاں بغل میں ہے یہ مژگاں ماتمی
حشر کو زیر و زبر ہو گا جہاں سچ ہے ولے
ہے قیامت شیخ جی اس کارگہ کی برہمی
تجھ سوا محبوب آتش طبع اے ساقی نہیں
ہو پرستاروں میں تیرے گر پری ہو آدمی
سامنے ہوجائیں اے ظالم تو دونوں ہیں برے
وہ دم شمشیر تیرا یہ ہماری بے دمی
اس قیامت جلوہ سے بہتیرے ہم سے جی اٹھیں
مر گئے تو مر گئے ہم اس کی کیا ہو گی کمی
کچھ پریشانی سی ہے سنبل کی جو الجھے ہے میر
یک جہاں برہم کرے زلفوں کی اس کی درہمی
میر تقی میر