ٹیگ کے محفوظات: لے

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 72
عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دِل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
پروین شاکر

کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 73
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں
کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل
کچھ زہر ملا ہوا مے میں
بدمست جہان ہو رہا ہے
ہے یار کی بو ہر ایک شے میں
ہیں ایک ہی گل کی سب بہاریں
فروردیں میں اور فصلِ دَے میں
ہے مستئ نیم خام کا ڈر
اصرار ہے جامِ پے بہ پے میں
مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں
بزمِ جم و بارگاہِ کے میں
اب تک زندہ ہے نام واں کا
گزرا ہے حسین ایک جے میں
ہوتی نہیں طے حکایتِ طے
گزرا ہے کریم ایک طے میں
کچھ شیفتہ یہ غزل ہے آفت
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
مصطفٰی خان شیفتہ

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 142
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
جون ایلیا

چپکے چپکے کسو کو چاہا پوچھا بھی تو نہ بولے ٹک

دیوان ششم غزل 1830
جب کہتے تھے تب تم نے تو گوش ہوش نہ کھولے ٹک
چپکے چپکے کسو کو چاہا پوچھا بھی تو نہ بولے ٹک
اب جو چھاتی جلی فی الواقع لطف نہیں ہے شکایت کا
صبر کرو کیا ہوتا ہے یوں پھوڑے دل کے پھپھولے ٹک
نالہ کشی میں مرغ چمن بکتا ہے پر ہم تب جانیں
نعرہ زناں جب صبح سے آ کے ساتھ ہمارے بولے ٹک
اس کی قامت موزوں سے کیا کوئی سرو برابر ہو
ناموزوں ہی نکلے گا سنجیدہ کوئی جو بولے ٹک
آنکھیں جو کھولیں سوتے سے تو حال ہی کہتے مجھ کو کہا
ساری رات کہانی کہی ہے تو بھی اٹھ کر سولے ٹک
مشکل ہے دلداری عاشق وہ برسوں بیتاب رہے
بے طاقت اس دل کو میرے ہاتھ میں اپنے تو لے ٹک
آنکھیں کھولیں حال کے کہتے دیر ہوئی ہے بس یعنی
ساری رات کہانی کہی ہے میر اب چل کر سولے ٹک
ایسے درد دل کرنے کو میر کہاں سے جگر آوے
گرم سخن لوگوں میں ہو کوئی بات کرے تو رولے ٹک
میر تقی میر

عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے

دیوان دوم غزل 995
جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے
دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش نہیں
یہ ادھر سجدہ کریں ابرو جدھر اس کی ہلے
یہ نہیں میں جانتا نسبت ہے کیا آپس میں لیک
آنکھیں ہوجاتی ہیں ٹھنڈی اس کے تلووں سے ملے
ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا
خوش رہو اے ساکنان باغ اب تو ہم چلے
مردمان شہر خوبی پر کریں کیا دل کو عرض
ایسی جنس ناروا کو مفت کوئی واں نہ لے
کل جو ہم کو یاد آیا باغ میں قد یار کا
خوب روئے ہر نہال سبز کے سائے تلے
جمع کر خاطر مرے جینے سے مجھ کو خوب ہے
جی بچا تب جانیے جب سر سے یہ کلول ٹلے
گرچہ سب ہیں گے مہیاے طریق نیستی
طے بہت دشوار کی یہ رہگذر ہم نے ولے
ہر قدم پر جی سے جانا ہر دم اوپر بے دمی
لمحہ لمحہ آگے تھے کیا کیا قیامت مرحلے
جلنے کو جلتے ہیں سب کے اندرونے لیک میر
جب کسو کی اس وتیرے سے کہیں چھاتی جلے
میر تقی میر

آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے

دیوان اول غزل 480
کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے
آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے
سو ظلم اٹھائے تو کبھو دور سے دیکھا
ہرگز نہ ہوا یہ کہ ہمیں پاس بلا لے
اس شوخ کی سرتیز پلک ہیں کہ وہ کانٹا
گڑ جائے اگر آنکھ میں سر دل سے نکالے
عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتن
کرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے
وے دن گئے جو ضبط کی طاقت تھی ہمیں بھی
اب دیدئہ خوں بار نہیں جاتے سنبھالے
احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبت
اب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھالے
دعواے قیامت کا مرے خوف اسے کیا
اک لطف میں وہ مجھ سے تنک رو کو منالے
کہتے ہیں حجاب رخ دلدار ہے ہستی
دیکھیں گے اگر یوں ہے بھلا جان بھی جا لے
میر اس سے نہ مل آہ کہ ڈرتے ہیں مبادا
بیباک ہے وہ شوخ کہیں مار نہ ڈالے
میر تقی میر

یار کے تیر جان لے جا بھی

دیوان اول غزل 457
چھن گیا سینہ بھی کلیجا بھی
یار کے تیر جان لے جا بھی
کیوں تری موت آئی ہے گی عزیز
سامنے سے مرے ارے جا بھی
حال کہہ چپ رہا جو میں بولا
کس کا قصہ تھا ہاں کہے جا بھی
میں کہا میر جاں بلب ہے شوخ
تونے کوئی خبر کو بھیجا بھی
کہنے لاگا نہ واہی بک اتنا
کیوں ہوا ہے سڑی ابے جا بھی
میر تقی میر

میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 100
وہ کون اور کہاں ہے ابھی یہ طے ہی نہیں
میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں
بغیر اُس کے کہاں کثرتیں اکائی بنیں
کہ سا زِ ہفتِ نوا میں وہ ایک لے ہی نہیں
فریبِ نشّہ بھی نشّے کی ایک صورت ہے
کہ پی رہا ہوں پیالے میں گرچہ مے ہی نہیں
نکال دے جو سمندر کو اپنے ساحل سے
سرِشتِ آب میں وہ موج پے بہ پے ہی نہیں
میں کائنات ہوں اپنے وجود کے اندر
مرے قریب یہ دنیا تو کوئی شے ہی نہیں
آفتاب اقبال شمیم

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 404
آگ تھی رنگ تھے اور مے تھی کہیں
روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں
سو گئی رات کے سائے گنتی ہوئی
جو ملاقات گلیوں میں طے تھی کہیں
میرے جیسا کوئی اور بیلے میں تھا
بانسری کی فسردہ سی لے تھی کہیں
شور تھا شہر میں عشق کاہر طرف
کوئی تازہ محبت کی نے تھی کہیں
اس کے اندر اترنا ہے گہرائی تک
سیکھتا جا کے ہوں ٹیلی پیتھی کہیں
جگمگاتی پھرے عشقِ منصور میں
کوئی سیتی کہیں کوئی کیتھی کہیں
منصور آفاق

تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 403
کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں
عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں
اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں
بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں
تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں
اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں
ڈرا دیا کسی خودکُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں
کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں
ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں
ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں
ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کیے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں
کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں
ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں
اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں
بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں
بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں
دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق

دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 167
کچھ اندھیرے جاگتے تھے کچھ اجالے میز پر
دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر
آنکھ جھپکی تھی ذرا سی میں نے کرسی پر کہیں
وقت نے پھر بن دیے صدیوں کے جالے میز پر
صلح کی کوشش نہ کر ہابیل اور قابیل میں
کھول دیں گے فائلیں افلاک والے میز پر
آگ جلتے ہی لبوں کی مل گئیں پرچھائیاں
رہ گئے کافی کے دو آدھے پیالے میز پر
جسم استانی کا لتھڑا جا رہا تھا رال سے
چاک لکھتا جا رہا تھا نظم کالے میز پر
میری ہم مکتب نزاکت میں قیامت خیز تھی
چاہتا تھا دل اسے اپنی سجا لے میز پر
کوئی ترچھی آنکھ سے منصور کرتا تھا گناہ
سیکس کے رکھے تھے پاکیزہ رسالے میز پر
منصور آفاق