ٹیگ کے محفوظات: لیں

رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں

بلا سے گر شبِ ہجراں میں جل بجھیں آنکھیں
رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں
یہ ربطِ تارِ نگہ تو بہت ہی بودا ہے
نجانے ہم سے وہ کس وقت پھیر لیں آنکھیں
بجا کہ نظریں ہی ٹھہری ہیں اب زباں لیکن
وہ سامنے ہی نہ آئیں تو کیا کریں آنکھیں
اُتر گئی ہیں رگ وپے میں یوں تِری نظریں
کوئی بھی نقش بنانے لگوں بنیں آنکھیں
لگی ہے آنکھ ہماری ترے تصور میں
تری ہی شکل مقابل ہو جب کھلیں آنکھیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
تمام عمر بھی گر ڈھونڈتے پھرو باصرِؔ
کہاں ملیں گی جو ہیں اپنے دھیان میں آنکھیں
باصر کاظمی

لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 112
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِ الہٰی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
پروین شاکر

سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 81
دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی
گھر کی دیواریں میرے جانے پر
اپنی تنہائیوں کو سوچیں گی
اُنگلیوں کو تراش دوں ، پھر بھی
عادتاً اُس کا نام لکھیں گی
رنگ و بُو سے کہیں پناہ نہیں
خواہشیں بھی کہاں اماں دیں گی
ایک خوشبو سے بچ بھی جاؤں اگر
دُوسری نکہتیں جکڑ لیں گی
خواب میں تتلیاں پکڑنے کو
نیندیں بچوں کی طرح دوڑیں گی
کھڑکیوں پر دبیز پردے ہوں
بارشیں پھر بھی دستکیں دیں گی
پروین شاکر

جینے کی اپنے ہم بھی کوئی طرح نکالیں

دیوان پنجم غزل 1701
تدبیر کوئی بتاوے جو آپ کو سنبھالیں
جینے کی اپنے ہم بھی کوئی طرح نکالیں
قالب میں جی نہیں ہے اس بن ہمارے گویا
حیران کار یارب ہم کیسا ڈول ڈالیں
محشر میں داد خوباں چاہیں تو کس سے چاہیں
واں لگ چلے ملک تو اس کو بھی یہ لگالیں
طالع نہ ذائقے کے اپنے کھلے کہ ہم بھی
ان شکریں لبوں کے ہونٹوں کا کچھ مزہ لیں
خوش چشم خوبرویاں دیدہ وراں ہیں کتنے
دزدیدہ دیکھنے میں دل دیکھتے چرا لیں
عشق و جنوں سے جی تو تنگ آگیا ہے کاش اب
دست تلطف اپنے سر سے مرے اٹھا لیں
خونریزی سے ہماری اچھا ہے ہاتھ اٹھانا
یوں چاہیے کہ دلبر درویش سے دعا لیں
چلتے ہیں ناز سے جب ٹھوکر لگے ہے دل کو
آتیں نہیں سمجھ میں ان دلبروں کی چالیں
منت ہزار کریے مانے منے نہ ہرگز
میر ایسے غصہ ور کو ہم کس طرح منا لیں
میر تقی میر