ٹیگ کے محفوظات: لہراؤں

سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
’’مان مجھے‘‘ کی ہانک لگاؤں وقت کا شہ کہلاؤں
سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں
قطرہ ہوں اور دل میں دیکھو دُھن ہے کیا البیلی
بادل بن کر اِک اِک پیاسے کھیت پہ میں لہراؤں
مَیں تیرا ممنون ہوں سُن اے درد رسان زمانے!
گھڑیالوں سا گنگ رہوں گر میں بھی چوٹ نہ کھاؤں
ریت اور کنکر تو ہر رُت میں گرم ہوا برسائے
رات کی رانی عام کہاں میں جس سے تن سہلاؤں
عرش سے اُترا کون فرشتہ میری سُننے آئے
مَیں جو عادل تک کو بھی اکثر مجرم ٹھہراؤں
جان بھی جاتی ہے تو جائے پر یہ کب ممکن ہے
مَیں اور وقت کے پِیروں کے پس خوردے کو للچاؤں
جانے کس کے قرب سے ماجدؔ لاگا روگ یہ مجھ کو
ہر دم ایک ہی خبط ہے میں جھُوٹے کے گھر تک جاؤں
ماجد صدیقی

رُوٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 108
جان لبوں تک لاؤں
رُوٹھا یار مناؤں
مَیں انگناں میں شب کے
گیت سحر کے گاؤں
تپتے صحراؤں پر
ابر بنوں اور چھاؤں
اُجڑے پیڑ ہیں جتنے
برگ اُنہیں لوٹاؤں
خواہش کے ساحل پر
موجوں سا لہراؤں
دُکھتے جسم کو ماجدؔ
کب تک میں سہلاؤں
ماجد صدیقی