ٹیگ کے محفوظات: لگن

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 156
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گیے پیر زن کے پاؤں
بھاگے تھے ہم بہت، سو، اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگ
ہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں
ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں
غالب مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہو
پیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں
مرزا اسد اللہ خان غالب

دیکھ اس کو بھر بھر آوے ہے سب کے دہن میں آب

دیوان دوم غزل 771
شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب
دیکھ اس کو بھر بھر آوے ہے سب کے دہن میں آب
لو سدھ شتاب فاختۂ گریہ ناک کی
آیا نہیں ہے دیر سے جوے چمن میں آب
سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو پی نہ جا
کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب
تھا گوش زد کہ گوروں میں لگ لگ اٹھے ہے آگ
یاں دل بھرے ہوئے کے سبب ہے کفن میں آب
جی ڈوب جائے دیکھیں جہاں بھر نظر ادھر
تم کہتے ہو نہیں مرے چاہ ذقن میں آب
لب تشنگان عشق کے ہیں کام کے وہ لعل
کیا آپ کو جو ہووے عقیق یمن میں آب
تب قیس جنگلوں کے تئیں آگ دے گیا
ہم بھر چلے ہیں رونے سے اب سارے بن میں آب
سن سوز دل کو میرے بہت روئی رات شمع
بیرون بزم لائے ہیں بھر بھر لگن میں آب
دیکھو تو کس روانی سے کہتے ہیں شعر میر
در سے ہزار چند ہے ان کے سخن میں آب
میر تقی میر

ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے

دیوان اول غزل 547
نہ تنہا داغ نو سینے پہ میرے اک چمن نکلے
ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے
گماں کب تھا یہ پروانے پر اتنا شمع روئے گی
کہ مجلس میں سے جس کے اشک کے بھر بھر لگن نکلے
کہاں تک نازبرداری کروں شام غریباں کی
کہیں گرد سفر سے جلد بھی صبح وطن نکلے
جنوں ان شورشوں پر ہاتھ کی چالاکیاں ایسی
میں ضامن ہوں اگر ثابت بدن سے پیرہن نکلے
حرم میں میر جتنا بت پرستی پر ہے تو مائل
خدا ہی ہو تو اتنا بتکدے میں برہمن نکلے
میر تقی میر

تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب

دیوان اول غزل 177
ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب
تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب
اس پر لہو کے پیاسے ہیں تیرے لبوں کے رشک
اک نام کو رہی ہے عقیق یمن میں آب
شب سوز دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
روئی ہے یاں تلک کہ بھرا ہے لگن میں آب
دل لے گیا تھا زیرزمیں میں بھرا ہوا
آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب
رویا تھا تیری چشم و مژہ یاد کرکے میں
ہے نیزہ نیزہ تب سے نواح ختن میں آب
ناسور پھونک پھونک کے پیجو خبر ہے شرط
ہے آپ داغ کوچۂ زخم کہن میں آب
دریا میں قطرہ قطرہ ہے آب گہر کہیں
ہے میر موجزن ترے ہر یک سخن میں آب
میر تقی میر