ٹیگ کے محفوظات: لگاتا

مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
باپ مرا بھی، بے بس جب ہو جاتا تھا
مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا
دبتی دیکھ کے گھر میں چیخیں بچّوں کی
مہماں بھی کچھ کھانے سے گھبراتا تھا
میرے بھی بالک ہیں تمہارے جیسے ہی
ریڑھی والا نت یہ ہانک لگاتا تھا
مُنّا اپنی ماتا جی کی شفقت کا
غالب حصّہ نوکر ہی سے پاتا تھا
ٹھیکیدار نجانے کیوں ہر افسر کی
سالگرہ کی دیگیں خود پکواتا تھا
گھر پر ہی ملنے ہر اچّھے سائل سے
صاحب اکثر دیر سے دفتر جاتا تھا
اُس کو بھی اغراض نے گھیرا تھا شاید
سچ کہتے ماجدؔ بھی کچھ ہکلاتا تھا
ماجد صدیقی

اشک سا خاک میں سماتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
شاخ پر جو بھی پھول آتا ہے
اشک سا خاک میں سماتا ہے
شیر کس انتقام کی آتش
خون پی پی کے نِت بُجھاتا ہے
کیا یہ شب ہے کہ جس میں جگنو بھی
دُور تک راستہ سُجھاتا ہے
جانے قصّہ ہے کیا قفس میں جسے
نت پرندہ زباں پہ لاتا ہے
اَب تو ماجدؔ بھی چند قبروں کو
چُومتا ہے گلے لگاتا ہے
ماجد صدیقی

مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں

دیوان چہارم غزل 1464
پھرا میں صورت احوال ہر یک کو دکھاتا یاں
مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں
خرابہ دلی کا دہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا
وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں
محبت دشمن جاں ہے جو میں معلوم یہ کرتا
تو کاہے کو کسو سے میر اپنا دل لگاتا یاں
میر تقی میر

خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں

دیوان سوم غزل 1181
ظلم و ستم کیا جور و جفا کیا جو کچھ کہیے اٹھاتا ہوں
خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں
گھر سے اٹھ کر لڑکوں میں بیٹھا بیت پڑھی دو باتیں کیں
کس کس طور سے اپنے دل کو اس بن میں بہلاتا ہوں
ہائے سبک ہونا یہ میرا فرط شوق سے مجلس میں
وہ تو نہیں سنتا دل دے کر میں ہی باتیں بناتا ہوں
قتل میں میرے یہ صحبت ہے غم غصے سے محبت کے
لوہو اپنا پیتا ہوں تلواریں اس کی کھاتا ہوں
آنے کی میری فرصت کتنی دو دم دو پل ایک گھڑی
رنجش کیوں کا ہے کو خشونت غصہ کیا ہے جاتا ہوں
سرماروں ہوں ایدھر اودھر دور تلک جاتا ہوں نکل
پاس نہیں پاتا جو اس کو کیا کیا میں گھبراتا ہوں
پھاڑ کے خط کو گلے میں ڈالا شہر میں سب تشہیر کیا
سامنے ہوں قاصد کے کیونکر اس سے میں شرماتا ہوں
پہلے فریب لطف سے اس کے کچھ نہ ہوا معلوم مجھے
اب جو چاہ نے بدلیں طرحیں کڑھتا ہوں پچھتاتا ہوں
مجرم اس خاطر ہوتا ہوں میں بعضی بعضی شوخی کر
عذر گناہ میں جاکر اس کے پائوں کو ہاتھ لگاتا ہوں
دیکھے ان پلکوں کے اکثر میر ہوں بے خود تنگ آیا
آپ کو پاتا ہوں تو چھری اس وقت نہیں میں پاتا ہوں
میر تقی میر

شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 1
درد مرا شہباز قلندر، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا
اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخِ کہن پر شب بھر سورج کاتا
پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا
شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا
ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا
مادھو لال حسین مرا دل، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا
وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا
ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا
میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا
ذات محمد بخش ہے میری۔۔۔ شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا
میں موہن جو داڑو، مجھ میں تہذبیوں کی چیخیں
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناتا
ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
منصور آفاق