ٹیگ کے محفوظات: لگائی

مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 2
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو کیا خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی
شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی
کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی
گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے
خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی
ہر اک نے دیے میرے شکوں پہ طعنے تیرے ظلم لیکن کسی نے نہ پوچھے
میری بات پر بول اٹھا زمانہ تری بات دنیا زباں پر نہ لائی
سرِ شام آنے کا وعدہ کیا تھا مگر رات اب تو ڈھلی جا رہی ہے
نہ جانے کہاں راہ میں رک گئے وہ نہ جانے کہاں اتنی دیر لگائی
یہی ہوتی ہے شرکتِ بزمِ تماشہ سمجھ کر کھڑے ہو گئے تم
نہ حالات مرنے کے پوچھے کسی سے نہ آنسو بہائے نہ میت اٹھائی
قمر جلالوی

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی

دیوان پنجم غزل 1725
رات کو تھا کعبے میں میں بھی شیخ حرم سے لڑائی ہوئی
سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی
تہمت رکھ مستی کی مجھ پر شیخ شہر کنے لایا
وہ بھی بگڑا حد سے زیادہ سن کر بات بنائی ہوئی
شیشہ ان نے گلے میں ڈلوا شہر میں سب تشہیر کیا
ہائے سیہ رو عاشق کی عالم میں کیا رسوائی ہوئی
کیسی ہی شکلیں سامنے آویں مژگاں وا اودھر نہ کروں
حور و پری پر آنکھ نہیں پڑتی ہے کسو سے لگائی ہوئی
حوصلہ داری کیا ہے اتنی قدرت کچھ ہے خدا ہی کی
عالم عالم جہاں جہاں جو غم کی ہم میں سمائی ہوئی
دیکھ کے دست و پاے نگاریں چپکے سے رہ جاویں نہ کیوں
منھ بولے ہے یارو گویا مہندی اس کی رچائی ہوئی
دل میں درد جگر میں طپیدن سر میں شور آشفتہ دماغ
کیا کیا رنج اٹھائے گئے ہیں جب سے ان سے جدائی ہوئی
ہفتم چرخ سے اودھر ہوکر عرش کو پہنچی میری دعا
اور رسائی کیا ہوتی ہے گوکہ کہیں نہ رسائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
دور بجھے گی یعنی جاکر عشق کی آگ لگائی ہوئی
یہ یہ بلائیں سر پر ہیں تو آج موئے کل دوسرا دن
یاری ہوئی بیماری ہوئی درویشی ہوئی تنہائی ہوئی
اتنی لگوہیں چشم کسو کی قہر قیامت آفت ہے
تم نے دیکھی نہیں ہے صاحب آنکھ کوئی شرمائی ہوئی
جب موسم تھا وا ہونے کا تب تو شگفتہ ٹک نہ ہوا
اب جو بہت افسردہ ہوا ہے دل ہے کلی مرجھائی ہوئی
اس کی طرف جو لی ہم نے ہے اپنی طرف سے پھرا عالم
یعنی دوستی سے اس بت کی دشمن ساری خدائی ہوئی
ہم قیدی بھی موسم گل کے کب سے توقع رکھتے تھے
دیر بہار آئی اب کے پر اسیروں کی نہ رہائی ہوئی
کہنا جو کچھ جس سے ہو گا سامنے میر کہا ہو گا
بات نہ دل میں پھر گئی ہو گی منھ پہ میرے آئی ہوئی
میر تقی میر

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

اس لب و لہجے پر بلبل کو اس کے آگے نہ آئی بات

دیوان پنجم غزل 1583
باد صبا نے اہل چمن میں اس چہرے کی چلائی بات
اس لب و لہجے پر بلبل کو اس کے آگے نہ آئی بات
دور تلک قاصد کے پیچھے کچھ کہتا میں جاتا تھا
شوق ستم کش ظالم نے کیا رفتہ رفتہ بڑھائی بات
آگ ہوا آتے ہی میرے لال آنکھیں کر گھور رہا
کیا جانوں سرگوشی میں کیا غیر نے اس سے لگائی بات
لعل کو نسبت ان ہونٹوں سے دینا سب کا تصنع تھا
کچھ بن آئی جب نہ کسو سے تب یہ ایک بنائی بات
غیر سے کچھ کچھ کہتا تھا سو سامنے سے میر آیا میں
پھیر لیا منھ میری طرف سے یعنی مجھ سے چھپائی بات
میر تقی میر

آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی

دیوان چہارم غزل 1506
کب وعدے کی رات وہ آئی جو آپس میں نہ لڑائی ہوئی
آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی
چاہ میں اس بے الفت کی گھبراہٹ دل ہی کو تو نہیں
سارے حواسوں میں ہے تشتت جان بھی ہے گھبرائی ہوئی
گرچہ نظر ہے پشت پا پر لیکن قہر قیامت ہے
گڑ جاتی ہے دل میں ہمارے آنکھ اس کی شرمائی ہوئی
جنگل جنگل شوق کے مارے ناقہ سوار پھرا کی ہے
مجنوں جو صحرائی ہوا تو لیلیٰ بھی سودائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
یعنی دور بجھے گی جا کر عشق کی آگ لگائی ہوئی
چتون کے انداز سے ظالم ترک مروت پیدا ہے
اہل نظر سے چھپتی نہیں ہے آنکھ کسو کی چھپائی ہوئی
میر کا حال نہ پوچھو کچھ تم کہنہ رباط سے پیری میں
رقص کناں بازار تک آئے عالم میں رسوائی ہوئی
میر تقی میر

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات

دیوان دوم غزل 784
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

چاندکی شمع آخر بجھائی گئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 449
ایک امید کھڑکی سے آئی ، گئی
چاندکی شمع آخر بجھائی گئی
اپنے اندر ہی روتے سمندر رہے
کب کہانی کسی کو سنائی گئی
اس کے جانے پہ احساس کچھ یوں ہوا
اپنے پہلو سے اٹھ کر خدائی گئی
اپنے مژگاں میں آنسو پروتا رہا
یوں غزل بزم میں رات گائی گئی
تم یہود و نصاریٰ کی زرگاہ میں
بک گئے جب بھی بولی لگائی گئی
تم کرائے کے قاتل ہو حاکم نہیں
تم سے اپنوں پہ گولی چلائی گئی
آگ تھی غم کی منصور کافر نژاد
اس سے مسلم کی میت جلائی گئی
منصور آفاق