ٹیگ کے محفوظات: لگاؤں

کہ ایک آن بھی خود سے جُدا نہ پاؤں تجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
نظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھے
کہ ایک آن بھی خود سے جُدا نہ پاؤں تجھے
یہ چہچہے، یہ سحر، پَو پھٹے کا منظرِ شب
ترا ہی عکس ہیں کِس طرح مَیں بھلاؤں تجھے
مہک مہک ترا اِک رنگ گل بہ گل تری لَے
تجھے لکھوں بھی تو کیا، کیسے گنگناؤں تجھے
نظر لگے نہ تمّنائے وصل کو میری
صبا کا بھیس بدل لے گلے لگاؤں تجھے
سحر کا عکس ہے ماجدؔ تری غزل کا نکھار
یہ ایک مژدۂ جاں بخش بھی سُناؤں تجھے
ماجد صدیقی

غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 120
کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے
یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں سے
میں کیسے بات کروں اور کہاں سے لاؤں اسے
مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں اسے
وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے
جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں کہ اگر یاد بھی نہ آؤں اسے
احمد فراز

کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 6
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں
زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں
تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں
گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں
اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں
یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بُھول جاؤں
تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں
قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں
دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
پروین شاکر

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی