ٹیگ کے محفوظات: لکھا

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

عہدِ طفلی سا بغل کے بیچ پھر بستہ ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
مکتبِ تخلیقِ فن میں حال یہ اپنا ہوا
عہدِ طفلی سا بغل کے بیچ پھر بستہ ہوا
بہرِ ردِ عذر ہے بادِ خنک لایا ضرور
ابر کشتِ خشک تک پہنچا ہے پر برسا ہُوا
سرو سا اُس کا سراپا ہے الف اظہار کا
ہے جبینِ خامشی پر جو مری لکھا ہُوا
رنگ میں ڈوبا ہوا ہر دائرہ اُس جسم کا
پیرہن خوشبو کا ہے ہر شاخ نے پہنا ہوا
ہر نظر شاخِ سخن ہے پھول پتّوں سے لدی
ہے خمارِ آرزُو کچھ اِس طرح چھایا ہُوا
تجھ پہ بھی پڑنے کو ہے ماجدؔ نگاہِ انتخاب
ہے ترا ہر لفظ بھی اُس جسم سا ترشا ہُوا
ماجد صدیقی

نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 16
پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا
آزمائش میں کہاں عشق بھی پُورا اُترا
حسن کے آگے تو تقدیر کا لکھا اُترا
دُھوپ ڈھلنے لگی،دیوار سے سایا اُترا
سطح ہموار ہُوئی،پیار کا دریا اُترا
یاد سے نام مٹا،ذہن سے چہرہ اُترا
چند لمحوں میں نظر سے تری کیا کیا اُترا
آج کی شب میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا
میری وحشت رمِ آہو سے کہیں بڑھ کر تھی
جب مری ذات میں تنہائی کا صحرا اُترا
اِک شبِ غم کے اندھیرے پہ نہیں ہے موقوف
تونے جو زخم لگایا ہے وہ گہرا اُترا
پروین شاکر

جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 35
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا
وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا
دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا
شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا
نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا
ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا
تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا
فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا
اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 4
یہ قول کسی کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
وہ کچھ نہیں کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
سن سن کے ترے عشق میں اغیار کے طعنے
میرا ہی کلیجا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ان کا یہی سننا ہے کہ وہ کچھ نہیں سنتے
میرا یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
خط میں مجھے اوّل تو سنائی ہیں ہزاروں
آخر میں یہ لکھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
پھٹتا ہے جگر دیکھ کے قاصد کی مصیبت
پوچھوں تو یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ خوب سمجھ لیجئے غمار وہی ہے
جو آپ سے کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
تم کو یہی شایاں ہے کہ تم دیتے ہو دشنام
مجھ کو یہی زیبا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مشتاق بہت ہیں مرے کہنے کے پر اے داغؔ
یہ وقت ہی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
داغ دہلوی

مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 17
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا
مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا
میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
قریب تیر رہا تھا بطخوں کا ایک جوڑا
میں آب جو کے کنارے اداس بیٹھا تھا
شب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے
کہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا
بنی نہیں جو کہیں پر، کلی کی تربت تھی
سنا نہیں جو کسی نے ، ہوا کا نوحہ تھا
یہ آڑی ترچھی لکیریں بنا گیا ہے کون
میں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا
میں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
اتر گیا ترے دل میں تو شعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیرِ سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا
میں ساحلوں میں اترا کر شکیبؔ کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
شکیب جلالی

رہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہوا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 12
وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
رہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہوا
اے روشنی کی لہر کبھی تو پلٹ کے آ
تجھ کو بلا رہا ہے دریچہ کھلا ہوا
سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی
ساحل نے ہے ندی کو مقیّد کیا ہوا
اے دوست چشمِ شوق نے دیکھا ہے بارہا
بجلی سے تیرا نام گھٹا پر لکھا ہوا
پہچانتے نہیں اسے محفل میں دوست بھی
چہرہ ہو جس کا گردِ الم سے اٹا ہوا
اس دور میں خلوص کا کیا کام اے شکیبؔ
کیوں کر چلے بساط پہ مہرا پِٹا ہوا
شکیب جلالی

عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 96
یہاں معنی کا بے صورت صلا نئیں
عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں
ہیں سب اک دوسرے کی جستجو میں
مگر کوئی کسی کو بھی ملا نئیں
ہمارا ایک ہی تو مدعا تھا
ہمارا اور کوئی مدعا نئیں
کبھی خود سے مکر جانے میں کیا ہے
میں دستاویز پر لکھا ہوا نئیں
یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا
چلے جانے پہ اس کے جانے کا نئیں
بچھڑ کے جان تیرے آستاں سے
لگا جی بہت پر جی لگا نئیں
جدائی اپنی بے روداد سی تھی
کہ میں رویا نہ تھا اور پھر ہنسا نئیں
وہ ہجر و وصل تھا سب خواب در خواب
وہ سارا ماجرا جو تھا، وہ تھا نئیں
بڑا بے آسرا پن ہے سو چپ رہ
نہیں ہے یہ کوئی مژدہ خدا نئیں
جون ایلیا

یہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 201
آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی
یہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سر
ذہن میں خوبئِ تسلیم و رضا ہے تو سہی
ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جائے گی عُمر
نہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی
دوست ہی کوئی نہیں ہے، جو کرے چارہ گری
نہ سہی، لیک تمنّائے دوا ہے تو سہی
غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اُس نے
نہ سہی ہم سے، پر اُس بُت میں وفا ہے تو سہی
نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں مَیں
کچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالب
شہرۂ تیزئِ شمشیرِ قضا ہے تو سہی
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کا منکا ولے پھرا نہ کبھو

دیوان ششم غزل 1863
ہاتھ بے سبحہ ٹک رہا نہ کبھو
دل کا منکا ولے پھرا نہ کبھو
کیونکے عرفان ہو گیا سب کو
اپنے ڈھب پر تو وہ چڑھا نہ کبھو
روز دفتر لکھے گئے یاں سے
ان نے یک حرف بھی لکھا نہ کبھو
گو شگفتہ چمن چمن تھے گل
غنچۂ دل تو وا ہوا نہ کبھو
طور کی سی تھی صحبت اس کی مری
جھمکی دکھلا کے پھر ملا نہ کبھو
غیرت اپنی تھی یہ کہ بعد نماز
اس کا لے نام کی دعا نہ کبھو
ابتدا ہی میں مر گئے سب یار
عشق کی پائی انتہا نہ کبھو
وہ سخن گو فریبی چشم یار
ہم سے گویا تھی آشنا نہ کبھو
میر تقی میر

کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر

دیوان ششم غزل 1824
آیا جو اپنے گھر سے وہ شوخ پان کھاکر
کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر
شاید کہ منھ پھرا ہے بندوں سے کچھ خدا کا
نکلے ہے کام اپنا کوئی خدا خدا کر
کان اس طرف نہ رکھے اس حرف ناشنو نے
کہتے رہے بہت ہم اس کو سنا سنا کر
کہتے تھے ہم کسو کو دیکھا کرو نہ اتنا
دل خوں کیا نہ اپنا آنکھیں لڑا لڑا کر
آگے ہی مررہے ہیں ہم عشق میں بتاں کے
تلوار کھینچتے ہو ہم کو دکھا دکھا کر
وہ بے وفا نہ آیا بالیں پہ وقت رفتن
سو بار ہم نے دیکھا سر کو اٹھا اٹھا کر
جلتے تھے ہولے ہولے ہم یوں تو عاشقی میں
پر ان نے جی ہی مارا آخر جلا جلا کر
سوتے نہ لگ چل اس سے اے باد تو نے ظالم
بہتیروں کو سلایا اس کو جگا جگا کر
مدت ہوئی ہمیں ہے واں سے جواب مطلق
دفتر کیے روانہ لکھ لکھ لکھا لکھا کر
کیا دور میر منزل مقصود کی ہے اپنے
اب تھک گئے ہیں اودھر قاصد چلا چلا کر
میر تقی میر

میں بے دماغ باغ سے اٹھ کر چلا گیا

دیوان ششم غزل 1796
بلبل کا شور سن کے نہ مجھ سے رہا گیا
میں بے دماغ باغ سے اٹھ کر چلا گیا
لوگوں نے پائی راکھ کی ڈھیری مری جگہ
اک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا چلا گیا
چہرے پہ بال بکھرے رہے سب شب وصال
یعنی کہ بے مروتی سے منھ چھپا گیا
چلنا ہوا تو قافلۂ روزگار سے
میں جوں صدا جرس کی اکیلا جدا گیا
کیا بات رہ گئی ہے مرے اشتیاق سے
رقعے کے لکھتے لکھتے ترسل لکھا گیا
سب زخم صدر ان نے نمک بند خود کیے
صحبت جو بگڑی اپنے میں سارا مزہ گیا
سارے حواس میرے پریشاں ہیں عشق میں
اس راہ میں یہ قافلہ سارا لٹا گیا
بادل گرج گرج کے سناتا ہے یعنی یاں
نوبت سے اپنی ہر کوئی نوبت بجا گیا
وے محو ناز ہی رہے آئے نہ اس طرف
میں منتظر تو جی سے گیا ان کا کیا گیا
دل دے کے جان میر نے پایان کار دی
یہ سادہ لوح طرح نئی دل لگا گیا
میر تقی میر

طیور ہی سے بَکا کریں گے گلوں کے آگے بُکا کریں گے

دیوان چہارم غزل 1502
چلو چمن میں جو دل کھلے ٹک بہم غم دل کہا کریں گے
طیور ہی سے بَکا کریں گے گلوں کے آگے بُکا کریں گے
قرار دل سے کیا ہے اب کے کہ رک کے گھر میں نہ مریئے گا یوں
بہار آئی جو اپنے جیتے تو سیر کرنے چلا کریں گے
ہلاک ہونا مقرری ہے مرض سے دل کے پہ تم کڑھو ہو
مزاج صاحب اگر ادھر ہے تو ہم بھی اپنی دوا کریں گے
برا ہے دل کا ہمارے لگنا لگانا غصے سے عاشقی کے
نچی جبیں سے گلی میں اس کی خراب و خستہ پھرا کریں گے
وصال خوباں نہ کر تمنا کہ زہر شیریں لبی ہے ان کی
خراب و رسوا جدا کریں گے ہلاک مل کر جدا کریں گے
اگر وہ رشک بہار سمجھے کہ رنگ اپنا بھی ہے اب ایسا
ورق خزاں میں جو زرد ہوں گے غم دل ان پر لکھا کریں گے
غم محبت میں میر ہم کو ہمیشہ جلنا ہمیشہ مرنا
صعوبت ایسی دماغ رفتہ کہاں تلک اب وفا کریں گے
میر تقی میر

پر بعد نماز اٹھ کر میخانہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1319
مستانہ اگرچہ میں طاعت کو لگا جاتا
پر بعد نماز اٹھ کر میخانہ چلا جاتا
بازار میں ہو جانا اس مہ کا تماشا تھا
یوسفؑ بھی جو واں ہوتا تو اس پہ بکا جاتا
دیکھا نہ ادھر ورنہ آتا نہ نظر پھر میں
جی مفت مرا جاتا اس شوخ کا کیا جاتا
شب آہ شرر افشاں ہونٹوں سے پھری میرے
سر کھینچتا یہ شعلہ تو مجھ کو جلا جاتا
کیا شوق کی باتوں کی تحریر ہوئی مشکل
تھے جمع قلم کاغذ پر کچھ نہ لکھا جاتا
آنکھیں مری کھلتیں تو اس چہرے ہی پر پڑتیں
کیا ہوتا یکایک وہ سر پر مرے آجاتا
سبزے کا ہوا روکش خط رخ جاناں کے
جو ہاتھ مرے چڑھتا تو پان کو کھا جاتا
ہے شوق سیہ رو سے بدنامی و رسوائی
کیوں کام بگڑ جاتا جو صبر کیا جاتا
تھا میر بھی دیوانہ پر ساتھ ظرافت کے
ہم سلسلہ داروں کی زنجیر ہلا جاتا
میر تقی میر

ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1318
اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آجاتا
ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا
تب تک ہی تحمل ہے جب تک نہیں آتا وہ
اس رستے نکلتا تو ہم سے نہ رہا جاتا
اک آگ لگا دی ہے چھاتی میں جدائی نے
وہ مہ گلے لگتا تو یوں دل نہ جلا جاتا
یا لاگ کی وے باتیں یا ایسی ہے بیزاری
وہ جو نہ لگا لیتا تو میں نہ لگا جاتا
کیا نور کا بکّا ہے چہرہ کہ شب مہ میں
منھ کھولے جو سو رہتا تو ماہ چھپا جاتا
اس شوق نے دل کے بھی کیا بات بڑھائی تھی
رقعہ اسے لکھتے تو طومار لکھا جاتا
یہ ہمدمی کا دعویٰ اس کے لب خنداں سے
بس کچھ نہ چلا ورنہ پستے کو چبا جاتا
اب تو نہ رہا وہ بھی طاقت گئی سب دل کی
جو حال کبھو اپنا میں تم کو سنا جاتا
وسواس نہ کرتا تھا مر جانے سے ہجراں میں
تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا
میر تقی میر

کہ ہمیں متصل لکھا ہے خط

دیوان سوم غزل 1150
شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط
کہ ہمیں متصل لکھا ہے خط
شوق سے بات بڑھ گئی تھی بہت
دفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط
نامہ کب یار نے پڑھا سارا
نہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط
ساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلک
جب ادھر کے تئیں چلا ہے خط
کچھ خلل راہ میں ہوا اے میر
نامہ بر کب سے لے گیا ہے خط
میر تقی میر

اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1026
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے
میں اور تو ہیں دونوں مجبورطور اپنے
پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے
روے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یارب
سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے
کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں
دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے
حسن ان بھی معنیوں کا تھا آپھی صورتوں میں
اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے
شادی سے غم جہاں میں دہ چند ہم نے پایا
ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے
ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن
ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے
ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ
ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے
نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں
جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہ سے آشنا ہے
مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر
جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے
تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر
جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے
ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن
جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے
پھرتے ہو میر صاحب سب سے جدے جدے تم
شاید کہیں تمھارا دل ان دنوں لگا ہے
میر تقی میر

گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے

دیوان دوم غزل 1009
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے
اس قدر جی میں ہے دغا اس کے
کہ دعا کریے تو دغا سمجھے
کچھ سمجھتے نہیں ہمارا حال
تم سے بھی اے بتاں خدا سمجھے
غلط اپنا کہ اس جفاجو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
نکتہ داں بھی خدا نے تم کو کیا
پر ہمارا نہ مدعا سمجھے
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
میر صاحب کا ہر سخن ہے رمز
بے حقیقت ہے شیخ کیا سمجھے
میر تقی میر

جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے

دیوان دوم غزل 1001
اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے
جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے
کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے
کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے
سو رنگ کی جب خوبی پاتے ہو اسی گل میں
پھر اس سے کوئی اس بن کچھ چاہے تو کیا چاہے
ہم عجز سے پہنچے ہیں مقصود کی منزل کو
گہ خاک میں مل جاوے جو اس سے ملا چاہے
ہوسکتی ہیں سد رہ پلکیں کہیں رونے کی
تنکوں سے رکے ہے کب دریا جو بہا چاہے
جب تونے زباں چھوڑی تب کاہے کا صرفہ ہے
بے صرفہ کہے کیوں نہ جو کچھ کہ کہا چاہے
دل جاوے ہے جوں رو کے شبنم نے کہا گل سے
اب ہم تو چلے یاں سے رہ تو جو رہا چاہے
خط رسم زمانہ تھی ہم نے بھی لکھا اس کو
تہ دل کی لکھے کیونکر عاشق جو لکھا چاہے
رنگ گل و بوے گل ہوتے ہیں ہوا دونوں
کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے
ہم میر ترا مرنا کیا چاہتے تھے لیکن
رہتا ہے ہوئے بن کب جو کچھ کہ ہوا چاہے
میر تقی میر

الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے

دیوان دوم غزل 996
بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے
الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے
دل دھڑکے ہے جاتے کچھ بت خانے سے کعبے کو
اس راہ میں پیش آوے کیا ہم کو خدا جانے
ہے محو رخ اپنا تو آئینے میں ہر ساعت
صورت ہے جو کچھ دل کی سو تیری بلا جانے
کچھ اس کی بندھی مٹھی اس باغ میں گذرے ہے
جو زخم جگر اپنے جوں غنچہ چھپا جانے
کیا سینے کے جلنے کو ہنس ہنس کے اڑاتا ہوں
جب آگ کوئی گھر کو اس طور لگا جانے
میں مٹی بھی لے جائوں دروازے کی اس کے تو
اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے
اپنے تئیں بھی کھانا خالی نہیں لذت سے
کیا جانے ہوس پیشہ چکھے تو مزہ جانے
یوں شہر میں بہتیرے آزاردہندے ہیں
تب جانیے جب کوئی اس ڈھب سے ستا جانے
کیا جانوں رکھو روزے یا دارو پیو شب کو
کردار وہی اچھا تو جس کو بھلا جانے
آگاہ نہیں انساں اے میر نوشتے سے
کیا چاہیے ہے پھر جو طالع کا لکھا جانے
میر تقی میر

پر ہے یہی ہمارے کیے کی سزا کہو

دیوان دوم غزل 926
لائق نہیں تمھیں کہ ہمیں ناسزا کہو
پر ہے یہی ہمارے کیے کی سزا کہو
چپکے رہے بھی چین نہیں تب کہے ہے یوں
لب بستہ بیٹھے رہتے جو ہو مدعا کہو
پیغام بر تو یارو تمھیں میں کروں ولے
کیا جانوں جاکے حق میں مرے اس سے کیا کہو
اب نیک و بد پہ عشق میں مجھ کو نظر نہیں
اس میں مجھے برا کہو کوئی بھلا کہو
سر خاک آستاں پہ تمھاری رہا مدام
اس پر بھی یا نصیب جو تم بے وفا کہو
برسوں تلک تو گھر میں بلا گالیاں دیاں
اب در پہ سن کے کہنے لگے ہیں دعا کہو
صحبت ہماری اس کی جو ہے گفتنی نہیں
کیا کہیے گر کہے کوئی یہ ماجرا کہو
یارو خصوصیت تو رہے اپنی اس کے ساتھ
میرا کہو جو حال تو اس سے جدا کہو
آشفتہ مو حواس پریشاں خراب حال
دیکھو مجھے تو خبطی دوانہ سڑا کہو
کب شرح شوق ہوسکے پر تو بھی میرجی
خط تم نے جو لکھا اسے کیا کیا لکھا کہو
میر تقی میر

ہم برے ہی سہی بھلا صاحب

دیوان دوم غزل 775
جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
ہم برے ہی سہی بھلا صاحب
سادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تم
اب تو ہیں حرف آشنا صاحب
نہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیں
کیا کیا ہائے یہ خدا صاحب
بندگی ایک اپنی کیا کم ہے
اور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب
مہرافزا ہے منھ تمھارا ہی
کچھ غضب تو نہیں ہوا صاحب
خط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہ
اپنے طالع کا یہ لکھا صاحب
پھر گئیں آنکھیں تم نہ آن پھرے
دیکھا تم کو بھی واہ وا صاحب
شوق رخ یاد لب غم دیدار
جی میں کیا کیا مرے رہا صاحب
بھول جانا نہیں غلام کا خوب
یاد خاطر رہے مرا صاحب
کن نے سن شعر میر یہ نہ کہا
کہیو پھر ہائے کیا کہا صاحب
میر تقی میر

طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا

دیوان دوم غزل 754
حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا
اس مہ سے دل کی لاگ وہی متصل رہی
گو چرخ نے بہ صورت ظاہر جدا رکھا
گڑوا دیا ہو مار کر اک دو کو تو کہوں
کب ان نے خون کر نہ کسو کا دبا رکھا
ٹک میں لگا تھا اس نمکی شوخ کے گلے
چھاتی کے میرے زخموں نے برسوں مزہ رکھا
کاہے کو آئے چوٹ کوئی دل پہ شیخ کے
اس بوالہوس نے اپنے تئیں تو بچا رکھا
ہم سر ہی جاتے عشق میں اکثر سنا کیے
اس راہ خوفناک میں کیوں تم نے پا رکھا
آزار دل نہیں ہے کسو دین میں درست
کیا جانوں ان بتوں نے ستم کیوں روا رکھا
کیا میں ہی محو چشمک انجم ہوں خلق کو
اس مہ نے ایک جھمکی دکھاکر لگا رکھا
کیا زہر چشم یار کو کوئی بیاں کرے
جس کی طرف نگاہ کی اس کو سلا رکھا
ہر چند شعر میر کا دل معتقد نہ تھا
پر اس غزل کو ہم نے بھی سن کر لکھا رکھا
میر تقی میر

کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا

دیوان دوم غزل 691
ایک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا
کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا
دکھلاتے کیا ہو دست حنائی کا مجھ کو رنگ
ہاتھوں سے میں تمھارے بہت ہوں جلا ہوا
سوزش وہی تھی چھاتی میں مرنے تلک مرے
اچھا ہوا نہ داغ جگر کا لگا ہوا
سر ہی چڑھا رہے ہے ہر اک بادہ خوار کے
ہے شیخ شہر یا کوئی ہے جن پڑھا ہوا
ظاہر کو گو درست رکھا مر کے میں ولے
دل کا لگائو کوئی رہا ہے چھپا ہوا
ازخویش رفتہ میں ہی نہیں اس کی راہ میں
آتا نہیں ہے پھر کے ادھر کا گیا ہوا
یوں پھر اٹھا نہ جائے گا اے ابر دشت سے
گر کوئی رونے بیٹھ گیا دل بھرا ہوا
لے کر جواب خط کا نہ قاصد پھرا کبھو
کیا جانے سرنوشت میں کیا ہے لکھا ہوا
گو پیس مارے مہندی کے رنگوں فلک ولے
چھوٹے نہ اس سے اس کا لگا یا بندھا ہوا
اٹھتے تعب فراق کے جی سے کہاں تلک
دل جو بجا رہا نہ ہمارا بجا ہوا
دامن سے منھ چھپائے جنوں کب رہا چھپا
سو جا سے سامنے ہے گریباں پھٹا ہوا
دیکھا نہ ایک گل کو بھی چشمک زنی میں ہائے
جب کچھ رہا نہ باغ میں تب میں رہا ہوا
کیا جانیے ملاپ کسے کہتے ہیں یہ لوگ
برسوں ہوئے کہ ہم سے تو وہ ہے لڑا ہوا
بحر بلا سے کوئی نکلتا مرا جہاز
بارے خداے عزَّوجل ناخدا ہوا
اس بحر میں اک اور غزل تو بھی میر کہہ
دریا تھا تو تو تیری روانی کو کیا ہوا
میر تقی میر

اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے

دیوان اول غزل 493
آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
فکر دہن میں اس کی کچھ بن نہ آئی آخر
اب یہ خیال ہم بھی دل سے اٹھا رکھیں گے
مشت نمک کو میں نے بیکار کم رکھا ہے
چھاتی کے زخم میرے مدت مزہ رکھیں گے
سبزان شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے
اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے
آنکھوں میں دلبروں کی مطلق نہیں مروت
یہ پاس آشنائی منظور کیا رکھیں گے
جیتے ہیں جب تلک ہم آنکھیں بھی لڑتیاں ہیں
دیکھیں تو جور خوباں کب تک روا رکھیں گے
اب چاند بھی لگا ہے تیرے سے جلوے کرنے
شبہاے ماہ چندے تجھ کو چھپا رکھیں گے
مژگان و چشم و ابرو سب ہیں ستم کے مائل
ان آفتوں سے دل ہم کیونکر بچا رکھیں گے
دیوان میر صاحب ہر اک کی ہے بغل میں
دو چار شعر ان کے ہم بھی لکھا رکھیں گے
میر تقی میر

پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے

دیوان اول غزل 489
اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے
پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے
سرمایۂ صد آفت دیدار کی خواہش ہے
دل کی تو سمجھ لیجے گر چشم کہا مانے
مسدود ہی اے قاصد بہتر ہے رہ نامہ
کیا کیا نہ لکھیں ہم تو جو یار لکھا مانے
ٹک حال شکستہ کی سننے ہی میں سب کچھ ہے
پر وہ تو سخن رس ہے اس بات کو کیا مانے
بے طاقتی دل نے سائل بھی کیا ہم کو
پر میر فقیروں کی یاں کون صدا مانے
میر تقی میر

تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ

دیوان اول غزل 428
ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ
تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ
دل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میں
گھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ
کیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نے
عشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ
دل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیا
شغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
آہ مت پوچھ ستمگار کہ تجھ سے تھی ہمیں
چشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ
نام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرے
ایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ
طرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مری
واسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ
حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوست
مر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ
درد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراق
آہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ
چشم نمناک و دل پر جگر صد پارہ
دولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ
تجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاں
خاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ
قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفق
مضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ
پر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیر
ہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ
ایک محروم چلے میر ہمیں عالم سے
ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
میر تقی میر

آخرکار کیا کہا قاصد

دیوان اول غزل 199
نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد
آخرکار کیا کہا قاصد
کوئی پہنچا نہ خط مرا اس تک
میرے طالع ہیں نارسا قاصد
سر نوشت زبوں سے زر ہو خاک
راہ کھوٹی نہ کر تو جا قاصد
گر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں
یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد
یہ تو رونا ہمیشہ ہے تجھ کو
پھر کبھو پھر کبھو بھلا قاصد
اب غرض خامشی ہی بہتر ہے
کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد
شب کتابت کے وقت گریے میں
جو لکھا تھا سو بہ گیا قاصد
کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے
بھیجا کب تک کروں نیا قاصد
ہے طلسمات اس کا کوچہ تو
جو گیا سو وہیں رہا قاصد
باد پر ہے برات جس کا جواب
اس کو گذرے ہیں سالہا قاصد
نامۂ میر کو اڑاتا ہے
کاغذ باد گر گیا قاصد
میر تقی میر

مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا

دیوان اول غزل 89
بھلا ہو گا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہو گا
مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا
تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہو گا
وہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہو گا
کسو کو شوق یارب بیش اس سے اور کیا ہو گا
قلم ہاتھ آگئی ہو گی تو سو سو خط لکھا ہو گا
دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی
جو تو بازار میں ہو گا تو یوسف کب بکا ہو گا
معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کر
کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہو گا
خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا
گماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہو گا
قیامت کرکے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت
وہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہو گا
عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کے
محبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہو گا
نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانے
لہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہو گا
بہت ہمسائے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میں
کبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہو گا
نہیں جز عرش جاگہ راہ میں لینے کو دم اس کے
قفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہو گا
کہیں ہیں میر کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں
کہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہو گا
میر تقی میر

برگ افتادہ! ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 318
شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے
برگ افتادہ! ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے
ہم تو بارش ہیں خرابے کی ہمیں اگلے برس
در و دیوار کے چہرے پہ لکھا ہونا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
کچھ تو کرنا ہے کہ پتھر نہ سمجھ لے سیلاب
ورنہ اس ریت کی دیوار سے کیا ہونا ہے
عرفان صدیقی

معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 175
خیمۂ نصرت بپا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دیکھتا ہوں آسمانوں پر غبار اُٹھتا ہوا
دلدلِ فرخندہ پا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دُور اُفق تک ہر طرف روشن چراغوں کی قطار
داغ دل کا سلسلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آئنے خوش ہیں کہ اُڑ جائے گی سب گردِ ملال
شہر میں رقصِ ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
میں تو چپ تھا پھر زمانے کو خبر کیسے ہوئی
میرے چہرے پر لکھا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
ہو رہا ہے قید و بندِ رہزناں کا بند و بست
عاملوں کو خط ملا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آج تک ہوتا رہا ظالم ترا سوچا ہوا
اب مرا چاہا ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جب اِدھر سے ہوکے گزرے گا گہر افشاں جلوس
میرا دروازہ کھلا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
چاکر دُنیا سے عرضِ مدّعا کیوں کیجیے
خسروِ دوراں سے کیا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
لفظ نذر شاہ کر دینے کی ساعت آئے گی
خلعتِ معنی عطا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جان فرشِ راہ کر دینے کی ساعت آئے گی
زندگی کا حق ادا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
عرفان صدیقی

وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ایک ضد تھی مرا پندارِ وفا کچھ بھی نہ تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
تھا بہت کچھ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
یوں کسی شخص کے چہرے پہ لکھا کچھ بھی نہ تھا
اَب بھی چپ رہتے تو مجرم نظر آتے وَرنہ
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں شوقِ نوا کچھ بھی نہ تھا
یاد آتا ہے کئی دوستیوں سے بھی سوا
اِک تعلق جو تکلف کے سوا کچھ بھی نہ تھا
سب تری دین ہے، یہ رنگ، یہ خوشبو، یہ غبار
میرے دَامن میں تو اَے موجِ ہوا کچھ بھی نہ تھا
اور کیا مجھ کو مرے دیس کی دَھرتی دیتی
ماں کا سرمایہ بجز حرفِ دُعا کچھ بھی نہ تھا
لوگ خود جان گنوا دینے پہ آمادہ تھے
اِس میں تیرا ہنر اَے دستِ جفا کچھ بھی نہ تھا
سبز موسم میں ترا کیا تھا، ہوا نے پوچھا
اُڑ کے سوکھے ہوئے پتّے نے کہا کچھ بھی نہ تھا
عرفان صدیقی

مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 530
مجھے شوخ و شنگ لباس میں کوئی دلربا نہ ملا کرے
مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے
بڑی سر پھری سی ہوا چلے کہیں شامِ دشت خیال میں
مرے راکھ راکھ سے جسم کو کوئی ریت پر نہ لکھا کرے
تری کائنات میں قید ہوں بڑے مختصر سے قفس میں ہوں
بڑی سنگ زاد گھٹن سی ہے مجھے کوئی اس سے رہا کرے
مرے ہر گناہ و ثواب کو یہ چھپا لے اپنے لباس میں
بڑی لاج پال ہے تیرگی، کوئی رات کا نہ گلہ کرے
مرا ذکر و فکر ہوا کرے تری بارگاہِ خیال میں
مرے داغِ سجدہ کو چومنے تری جا نماز بچھا کرے
اسے پوچھنا کہ وصال کا کوئی واقعہ بھی عدم میں ہے
وہ جو خامشی کے دیار میں کسی ان سنی کو سنا کرے
ترا وصل آبِ حیات ہے ترے جانتے ہیں محب مگر
ہے طلب درازیِ عمر کی کوئی موت کی نہ دعا کرے
مرے جسم و جاں سے پرے کہیں بڑی دور خانہء لمس سے
کوئی خانقاہی کبوتری کہیں گنبدوں میں رہا کرے
کوئی قم بہ اذنی کہے نہیں کوئی چارہ گر نہ نصیب ہو
مرا اور کوئی خدا نہ ہو ترے بعد جگ میں خدا کرے
منصور آفاق

ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 424
الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ
یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ
یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ
کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ
نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ
سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ
وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ
وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ
ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ
منصور آفاق