ٹیگ کے محفوظات: لڑکیوں

اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 378
یہ جو جلتے دئیوں کی آنکھیں ہیں
اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں
حسنِ گل پوش کے تعاقب میں
پھر کئی تتلیوں کی آنکھیں ہیں
دھند لاہٹ دکھائی دیتی ہے
نم زدہ کھڑکیوں کی آنکھیں ہیں
کافی تنکے ہیں چُن لئے لیکن
چار سو بجلیوں کی آنکھیں ہیں
نیم وا رہتی ہیں محبت سے
کھلتی کب لڑکیوں کی آنکھیں ہیں
یہ جو سیارے ہیں خلاؤں میں
جنگجو بستیوں کی آنکھیں ہیں
راستہ ہے مدینہ کا منصور
پھول سی بچیوں کی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

اور ان میں بھی کڑکتی بجلیوں کا اجتماع

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 204
صبح مانگی تو ملا تاریکیوں کا اجتماع
اور ان میں بھی کڑکتی بجلیوں کا اجتماع
میں ، میانوالی، نظر کی جھیل، جاں کا ریگزار
یار کی تصویر میں تھا منظروں کا اجتماع
گفتگو میں گمشدہ اقدار کا دن بھر ملال
ذہن میں شب بھر برہنہ لڑکیوں کا اجتماع
جمع ہیں حکمت بھری دنیا کے سارے پیشہ ور
کابل و قندھار میں ہے قاتلوں کا اجتماع
یاد کی مرغابیاں ، بگلے خیال و خواب کے
پانیوں پر دور تک اڑتے پروں کا اجتماع
ایک کافر کی زباں بہکی ہے میرے شہر میں
ہر گلی ہر موڑ پر ہے پاگلوں کا اجتماع
بس تمہی سے تھاپ پر بجتے دھڑکتے ہال میں
روشنی کے رقص کرتے دائروں کا اجتماع
جانتا ہوں دھوپ سے میرے تعلق کے سبب
آسماں پر ہے ابھی تک بادلوں کا اجتماع
بارشیں برساتِ غم کی، میری آنکھیں اور میں
کوچہء جاں میں عجب ہے رحمتوں کا اجتماع
مجلسِ کرب و بلا کے آج زیر اہتمام
ہو رہا ہے شہر دل میں آنسوئوں کا اجتماع
شہر میں بیساکھیوں کے کارخانے کے لیے
رات بھر ہوتا رہا بالشتیوں کا اجتماع
ہاتھ کی الجھی لکیریں کس گلی تک آ گئیں
ذہن کے دیوار پر ہے زاویوں کا اجتماع
چل پہن مایا لگا جوڑا، چمکتی کھیڑیاں
دشمنوں کے شہر میں ہے دوستوں کا اجتماع
ایک پاگل ایک جاہل اک سخن نا آشنا
مانگتا ہے حرف میں خوش بختیوں کا اجتماع
ہیں کسی کے پاس گروی اپنی آنکھیں اپنے خواب
کیا کروں جو شہر میں ہے سورجوں کا اجتماع
رات کا رستہ ہے شاید پاؤں میں منصور کے
کر رہا ہے پھر تعاقب جگنوئوں کا اجتماع
منصور آفاق