ٹیگ کے محفوظات: لپٹ

لکھنے لگے تو لفظ قلم سے چمٹ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
لائے زبان پر تو لبوں میں سمٹ گیا
لکھنے لگے تو لفظ قلم سے چمٹ گیا
طوفاں سے قبل جس پہ رہا برگِ سبز سا
چھُو کر وہ شاخ آج پرندہ پلٹ گیا
غافل ہمارے وار سے نکلا بس اِس قدر
پٹنے لگا تو سانپ چھڑی سے لپٹ گیا
جھپٹا تو جیسے ہم تھے سرنگوں کے درمیاں
دشمن ہماری رہ سے بظاہر تھا ہٹ گیا
ہوتا اُنہیں شکستِ تمنّا کا رنج کیا
بچّے کے ہاتھ میں تھا غبارہ سو پھٹ گیا
ماجدؔ خلا نورد وُہ سّچائیوں کا ہے
اپنی زمیں سے رابطہ جس کا ہو کٹ گیا
ماجد صدیقی

وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 94
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے
خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں
ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے
ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد
بادل جو آسمان پہ چھائے تھے،چھٹ گئے
کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل
آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے
شہرِ وفا میں دُھوپ کا ساتھی کوئی نہیں
سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں
جھونکے ہَوا کے،کیسے گلے سے لپٹ گئے
دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی
اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے
پروین شاکر

محور سے زمین ہٹ گئی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 87
کچھ دیر کو تجھ سے کٹ گئی تھی
محور سے زمین ہٹ گئی تھی
تجھ کو بھی نہ مل سکی مکمل
میں ‌اتنے دکھوں ‌میں بٹ گئی تھی
شاید کہ ہمیں سنوار دیتی
جو شب آ کر پلٹ گئی تھی
رستہ تھا وہی پہ بِن تمہارے
میں گرد میں کیسی اَٹ گئی تھی
پت جھڑ کی گھڑی تھی اور شجر تھے
اک بیل عجب لپٹ گئی تھی
پروین شاکر

دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 20
ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں
پہونچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا
یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا
بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون
پتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا
اب کون جائے کوئے ملامت کو چھوڑ کر
قدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا
گنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہوں برا
آیا جدھر سے تیر، ادھر ہی پلٹ گیا
رکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش
میں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا
جس کی اماں میں ہوں وہ ہی اکتا گیا نہ ہو
بوندیں یہ کیوں برستی ہیں، بادل تو چھٹ گیا
وہ لمحۂِ شعور جسے جانکنی کہیں
چہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا
ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا
اک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیبؔ
کھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا
شکیب جلالی

ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا

دیوان دوم غزل 743
سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا
ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا
عالم میں جاں کے مجھ کو تنزہ تھا اب تو میں
آلودگی جسم سے ماٹی میں اٹ گیا
ظلم و جفا و جور پر اصرار اس قدر
ہٹ دیکھ دیکھ تیری دل اپنا بھی ہٹ گیا
اب وہ سماں نہیں ہے کہ وہ کام جان خلق
مغموم ہم کو دیکھ کے دوڑا لپٹ گیا
دشوار سیتے ہیں گے جو بے ڈھب پھٹے ہے جیب
بے طوریوں سے اس کی دل اپنا تو پھٹ گیا
دامان و جیب دونوں ہوئے ٹکڑے ایک جا
اب کے یہ کام ہاتھ سے میرے سمٹ گیا
خاطر اگر ہو جمع پریشانی بھی نبھے
سو دل تو دو طرف تری زلفوں سے بٹ گیا
ٹک رات اس کے منھ سے ہوا تھا مقابلہ
پھر ماہ چاردہ کو جو دیکھا تو گھٹ گیا
کیا پوچھو ہو نصیب ہمارے الٹ گئے
چل کر ادھر کو یار پھر اودھر الٹ گیا
بلبل کی اور گل کی جو صحبت کی سیر میر
دل اپنا دلبروں کی طرف سے اچٹ گیا
میر تقی میر

وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 89
بہت حسیں تھے ہرن دھیان بٹ گیا آخر
وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر
ملی نہ جب کوئی راہِ مفر تو کیا کرتا
میں ایک، سب کے مقابل میں ڈٹ گیا آخر
بس اِک اُمید پہ ہم نے گزار دی اِک عمر
بس ایک بوند سے کُہسار کٹ گیا آخر
بچا رہا تھا میں شہ زور دُشمنوں سے اُسے
مگر وہ شخص مجھی سے لپٹ گیا آخر
وہ اُڑتے اُڑتے کہیں دُور اُفق میں ڈوب گیا
تو آسمان پروں میں سمٹ گیا آخر
کھلا کہ وہ بھی کچھ ایسا وفا پرست نہ تھا
چلو، یہ بوجھ بھی سینے سے ہٹ گیا آخر
ہمارے داغ چھپاتیں روایتیں کب تک
لباس بھی تو پُرانا تھا، پھٹ گیا آخر
بڑھا کے ربطِ وَفا اَجنبی پرندوں سے
وہ ہنس اپنے وطن کو پلٹ گیا آخر
عرفان صدیقی