ٹیگ کے محفوظات: لپٹا

دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائے
دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے
تُو نہیں ہے تو تری سمت سے آنے والی
کیوں نہ اِن شوخ ہواؤں ہی سے لپٹا جائے
بے نیازی یہ کہیں عجز نہ ٹھہرے اپنا
اُس جُھکی شاخ سے پھل کوئی تو چکھا جائے
بے گُل و برگ سی وہ شاخِ تمّنا ہی سہی
دل کے اِس صحن میں ہاں کچھ تو سجایا جائے
چونک اُٹّھے وہ شہنشاہِ تغزّل ماجدؔ
یہ سخن تیرا جو غالبؔ کو سُنایا جائے
ماجد صدیقی

میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 14
کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا
دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا
شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا
بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا
ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا
مال بازارِ زمیں کا تھا میں جون
آسمانوں میں میرا سودا ہوا
اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بُھولا ہوا
جون ایلیا