ٹیگ کے محفوظات: لُوٹ

آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 103
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے
رنگ پھیلا تھا لُہو میں نہ ستارہ چمکا
اب کے ہر لمس ترا جُھوٹ رہا ہو جیسے
پھر شفق ہُوئی کوچہ جاناں کی زمیں
آبلہ پاؤں کا پھر پُھوٹ رہا ہو جیسے
روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے
سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
پروین شاکر