ٹیگ کے محفوظات: لو

ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو

دیوان سوم غزل 1234
کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو
ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو
پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب
نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو
کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا
ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو
سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے
کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو
مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا
ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو
کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی
وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو
اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات
چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو
گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید
دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو
جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر
کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو
میر تقی میر

کب ہے ویسی مواجہہ کرلو

دیوان سوم غزل 1226
آرسی اس کے سامنے دھرلو
کب ہے ویسی مواجہہ کرلو
اس کی تیغ ستم بلند ہوئی
جی ہے مرنے کو تو چلو مرلو
درپئے خوں ہیں میرے خورد و کلاں
یہ وبال اپنے کوئی سر پر لو
کچھ طرح ہو کہ بے طرح ہو حال
عمر کے دن کسو طرح بھرلو
کیا بلاخیز جا ہے کوچۂ عشق
تم بھی یاں میر مول اک گھر لو
میر تقی میر

دو باتیں گر لکھوں میں دل کو ٹک اک لگالو

دیوان دوم غزل 935
یوں کب ہوا ہے پیارے پاس اپنے تم بلالو
دو باتیں گر لکھوں میں دل کو ٹک اک لگالو
اب جو نصیب میں ہے سو دیکھ لوں گا میں بھی
تم دست لطف اپنا سر سے مرے اٹھا لو
جنبش بھی اس کے آگے ہونٹوں کو ہو تو کہیو
یوں اپنے طور پر تم باتیں بہت بنا لو
دو نعروں ہی میں شب کے ہو گا مکان ہو کا
سن رکھو کان رکھ کر یہ بات بستی والو
نام خدا ستم میں تم نامور تو ہو ہی
پر ایک دو کو یوں ہی للہ مار ڈالو
زلف اور خال و خط کا سودا نہیں ہے اچھا
یارو بنے تو سر سے جلد اس بلا کو ٹالو
یاران رفتہ ایسے کیا دورتر گئے ہیں
ٹک کرکے تیزگامی اس قافلے کو جالو
بازاری سارے وے ہی کہتے ہیں راز بیٹھے
جن کو ہمیں کہا ہے تم منھ سے مت نکالو
یوں رفتہ اور بے خود کب تک رہا کروگے
تم اب بھی میر صاحب اپنے تئیں سنبھالو
میر تقی میر

کاشکے پردے ہی میں بولو تم

دیوان دوم غزل 861
کون کہتا ہے منھ کو کھولو تم
کاشکے پردے ہی میں بولو تم
حکم آب رواں رکھے ہے حسن
بہتے دریا میں ہاتھ دھولو تم
کیا سراہیں ہم اپنی جنس کو لیک
دل عجب ہے متاع جو لو تم
جانا آیا ہے اب جہاں سے ہمیں
تھوڑی تو دور ساتھ ہو لو تم
جب میسر ہو بوسہ اس لب کا
چپکے ہی ہو رہو نہ بولو تم
پنجہ مرجاں کا پھر دھرا ہی رہے
ہاتھ خوں میں مرے ڈبولو تم
دست دے ہے کسے پلک سی میل
دل جہاں پائو اب پرولو تم
آتے ہیں متصل چلے آنسو
آہ کب تک یہ موتی رولو تم
رات گذری ہے سب تڑپتے میر
آنکھ لگ جائے ٹک تو سولو تم
میر تقی میر

ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
جو ہو بھی جائے فرو زندگی کی محرومی
ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی
کرے اندھیرا دل و ذہن میں پھر اس کے بعد
جگائے شعر کی لو زندگی کی محرومی
نہیں قبول شرائط پہ رزق و جنس ہمیں
بہت شدید ہے گو زندگی کی محرومی
گراں ہے ایک نہ ہو ناتمام ہونے پر
دل فقیر کی ضو زندگی کی محرومی
پھر اس کے بعد رہے گا نہ شوق پینے کا
شراب میں نہ ڈبو زندگی کی محرومی
لٹے نہ سلطنتِ غم ذرا خیال رہے
سہو ہمیشہ سہو زندگی کی محرومی
آفتاب اقبال شمیم

دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو
اور ستم کہتے ہیں کس کو
تم ہی کہہ دو دیکھنے والو
کچھ دن اور نہ ان سے الجھو
کچھ دن اور قضا کو ٹالو
افسانہ بھی سنتے جاؤ
دل کی بات بتانے والو
دنیا دیکھ نہ لے اے باقیؔ
دل میں امیدوں کو چھپا لو
باقی صدیقی

سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 103
نہ اکھیں اوہ لہر جیہی، نہ ہوٹھیں خُوشبو
سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو
مل گئی نال مزاج دے، زہر وی نِبھدی نال
دُکھ مترہن ساڈڑے، نھیریاں کر دے لو
مہکی سی دو چار دن دِلاّ! سانجھ رویل
ٹر گئے ساتھی نال دے، کلھیاں بہہ کے رو
پہلاں تے اِک گل سی، وچھڑاں گئے یا نئیں
ٹردے ہوئے نوں آکھیا، پل تے کول کھلو
سجنوں چپ دا اوڑھنا، کرئیے لیرو لیر
ہسئے اتھرو روک کے، اکھیاں لئیے دھو
کڈھ کدائیں ماجداُ، چرخہ ست پُران
پونی وِسرے پیار دی نویں سونی چھو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)