ٹیگ کے محفوظات: لوں

یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں

روشنی آنکھوں پہ باندھوں تو ہرا ہو جاؤں
یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں
دشت کی دست درازی سے پریشاں ہو کر
پیڑ کے سائے میں بیٹھوں تو ہرا ہو جاؤں
سبز تعویز اتارے ہوئے مدت گزری
اب ترے حکم سے پہنوں تو ہرا ہو جاؤں
رات آفات کے جنگل میں گزاری میں نے
دن ترے ساتھ گزاروں تو ہرا ہو جاؤں
ہجر میں اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا مجھ سے
میں تری یاد میں ناچوں تو ہرا ہو جاؤں
موت کی مشق مشقت سے مبرا ہے فلک
بسترِ مرگ پہ لیٹوں تو ہرا ہو جاؤں
افتخار فلک

کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمّنا میں کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں
کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمّنا میں کروں
اپنی ان محرومیوں میں کچھ مرا بھی ہاتھ ہے
مَیں نہ چاہوں تو بھلا اِس طرح رسوا کیو ں پھروں
تلخ و شیریں جو بھی ہے چکھنا تو ہے مجھ کو ضرور
جو بھی کچھ آئے سو آئے کیوں نہ ہاتھوں ہاتھ لوں
ہوں مقیّد وقت کا جس سمت چاہے لے چلے
دوپہر بھی ہوں تو میں کیوں شام بننے سے ڈروں
شش جہت بکھری ہے ماجدؔ میری چاہت کی مہک
مَیں اگر جانوں تو اپنے عہد کا گلزار ہوں
ماجد صدیقی

جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں
جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں
ہے یہی طرّۂ امتیازِ جنوں
مَیں جو روؤں تو پھر مُسکرا بھی سکوں
پیار آتش سہی پر یہ کیا شرط ہے
چاندنی رات میں بھی سُلگتا رہوں
یہ روش بھی کچھ ایسی بُری تو نہیں
چوٹ کھاؤں مگر مُسکراتا رہوں
احترامِ شبِ وصل ہو گر مجھے
مَیں شبِ ہجر کا نام تک بھی نہ لُوں
مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجدؔ کہ مَیں
ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں
ماجد صدیقی

جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 48
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک
ہر بار ہوا نہ ہو گی درپر
ہر بار مگر اُٹھوں کہاں تک
دَم گھٹتا ہے ، گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لیے رُکوں کہاں تک
پھر آگے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک
ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام ترا لکھوں کہاں تک
تنہائی کا ایک ایک لمحہ
ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک
گرلمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
میں تجھ سے جُدا رہوں کہاں تک
سُکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دُکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک
منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جَلوں کہاں تک
آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پُھول اُس کے لیے چُنوں کہاں تک
پروین شاکر

ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 7
نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو لُوں
ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں
تری خوشبو بچھڑ جانے سے پہلے
میں اپنے آپ میں تجھ کو سمولوں
کُھلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر
تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں
ملے گی آنسوؤں سے تن کو ٹھنڈک
بڑی لُو ہے ، ذرا آنچل بھگو لوں
وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے
کہاں ممکن رہا ، اُس سے نہ بولوں
میں چڑیا کی طرح ، دن بھر تھکی ہوں
ہُوئی ہے شام تو کُچھ دیر سولوں
چلوں مقتل سے اپنے شام ، لیکن
میں پہلے اپنے پیاروں کو تو رولوں
مرا نوحہ کناں کوئی نہیں ہے
سو اپنے سوگ میں خُود بال کھولوں
پروین شاکر

ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 67
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
جون ایلیا

غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں

دیوان سوم غزل 1176
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں
دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے
پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں
عاشق و معشوق یاں آخر فسانے ہو گئے
جاے گریہ ہے جہاں لیلیٰ کہاں مجنوں کہاں
آگ برسی تیرہ عالم ہو گیا جادو سے پر
اس کی چشم پرفسوں کے سامنے افسوں کہاں
سیر کی رنگیں بیاض باغ کی ہم نے بہت
سرو کا مصرع کہاں وہ قامت موزوں کہاں
کوچہ ہر یک جاے دلکش عالم خاکی میں ہے
پر کہیں لگتا نہیں جی ہائے میں دل دوں کہاں
ایک دم سے قیس کے جنگل بھرا رہتا تھا کیا
اب گئے پر اس کے ویسی رونق ہاموں کہاں
ناصح مشفق تو کہتا تھا کہ اس سے مت ملے
پر سمجھتا ہے ہمارا یہ دل محزوں کہاں
بائو کے گھوڑے پہ تھے اس باغ کے ساکن سوار
اب کہاں فرہاد و شیریں خسرو گلگوں کہاں
کھا گیا اندوہ مجھ کو دوستان رفتہ کا
ڈھونڈتا ہے جی بہت پر اب انھیں پائوں کہاں
تھا وہ فتنہ ملنے کی گوں کب کسی درویش کے
کیا کہیں ہم میر صاحب سے ہوئے مفتوں کہاں
میر تقی میر

دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 4
اس آشوب میں کیا انہونی سوچ رہا ہوں
دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں
تیر کوئی مرے رستے کاٹ دے اس سے پہلے
چار دشائیں اپنے پروں میں آج سمولوں
حال تو پوچھے چارہ گر کا دستِ گریزاں
دستک ہو تو سینے کا دروازہ کھولوں
تھک گیا لمبی رات میں تنہا جلتے جلتے
سورج نکلے اور محراب سے رُخصت ہو لوں
عرفان صدیقی

چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 14
کوئی نہیں مجھے جو بتائے میں کیا کروں
چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں
ممکن نہیں ہے اس سے کوئی بات ہو سکے
ممکن نہیں ہے اس کا کہیں نام لے سکوں
اس شہرناشناس میں کوئی نہیں مرا
دستک کہاں پہ دوں میں کسے جا کے کچھ کہوں
کب تک امیدرکھوں کہ اترے گا وہ ابھی
کب تک میں آسماں کی طرف دیکھتا رہوں
آنچل شبِ فراق کا اب کاٹنے لگا
میرا خیال ہے یہ ستارے میں نوچ لوں
بارش ہوا کے دوش پہ کمروں تک آگئی
گملے برآمدے کے چھپا کر کہاں رکھوں
منصور مشورہ یہی بہتر ہے دھوپ کا
اب شامِ انتظار اٹھا کرمیں پھینک دوں
منصور آفاق