ٹیگ کے محفوظات: لوٹا

یاد نے کنکر پھینکا ہو گا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہو گا
یاد نے کنکر پھینکا ہو گا
آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اِس وقت اکیلا ہو گا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اَوروں کو خط لکھتا ہو گا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہو گا
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہو گا
شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اُترا ہو گا
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہو گا
یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا مکھڑا دھویا ہو گا
موتی جیسی شکل بنا کر
آئنے کو تکتا ہو گا
شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہو گا
نیلی دُھندلی خاموشی میں
تاروں کی دُھن سنتا ہو گا
میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہو گا
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہو گا
پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دُکھ تو سنایا ہو گا
میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہو گا
ناصر تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہو گا
ناصر کاظمی

اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے

ترس گئی مری بینائی کچھ اجالا دے
اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے
شبِ سیاہ مجھے انتظارِ صبح نہیں
جو ہو سکے تو مرا چاند مجھ کو لوٹا دے
جو درد حاصلِ ہستی تھا وہ تو چھین لیا
اب اُس کے بدلے میں تو چاہے ساری دنیا دے
بلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو
ردائے تیرگی ہٹ سامنے سے رستا دے
کیا ہے تلخی دوراں نے اِس قدر بے حس
کوئی خبر نہیں ایسی جو مجھ کو چونکا دے
باصر کاظمی

جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے
مان بھی لیں، ممکن ہے، قدم اپنے ہی غلط ہوں
دُور نکل آئے ہیں بہت، اب لوٹا جائے
کھوج میں شاید شرط یہی، بار آور ٹھہرے
اور ذرا گہرے پانی میں، اُترا جائے
دریا میں کھُر جائے گھڑا کھُر جانے والا
ٹھہرا ہو جو عہد وہ عہد نہ توڑا جائے
مژدۂ عید سنانے والا چاند، ہمیشہ
بعد برس کے، پھر چاہت سے دیکھا جائے
ماجد صدیقی

کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 126
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں
یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں
یہ مت بُھولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں
تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں
تمہیں چاہیں گے جب چِھن جاؤ گی تو
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں
کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں
وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں
دلیلوں سےاسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں
تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں
یہ جزبہ عشق ہے یا جزبہء رحم
ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں
عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو
ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں
وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں
جون ایلیا

ملک دل ان نے صاف لوٹا ہے

دیوان اول غزل 645
کیا کہوں کچھ بھی اس سے چھوٹا ہے
ملک دل ان نے صاف لوٹا ہے
خاک سے میر کیوں نہ یکساں ہوں
مجھ پہ تو آسمان ٹوٹا ہے
میر تقی میر

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

دیوان اول غزل 52
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
رات کو سینہ بہت کوٹا گیا
طائر رنگ حنا کی سی طرح
دل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا
میں نہ کہتا تھا کہ منھ کر دل کی اور
اب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
میر کس کو اب دماغ گفتگو
عمر گذری ریختہ چھوٹا گیا
میر تقی میر