ٹیگ کے محفوظات: لمبی

دشمنی جس کی دوستی جیسی

پھر ہمیں جستجو ہوئی اُس کی
دشمنی جس کی دوستی جیسی
سامنے اُس کی سَرد مہری کے
کیا ہمارے مزاج کی گرمی
چھیڑنا چاہتے ہو دُکھتی رگ
بات ہو جائے گی بہت لمبی
ابھی تو صبح کا اُجالا تھا
ہو گئی شام کس قدر جلدی
تِیر تو بعد میں چلا باصرِؔ
تم نے پہلے ہی جان دے ڈالی
باصر کاظمی