ٹیگ کے محفوظات: لشکر

بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 88
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکاں پر لگی ہوئی
بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی
غافل نہ جان اُسے کہ تغافل کے باوجود
اُس کی نظر ہے سب پہ برابر لگی ہوئی
خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی
برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئی
غیروں سے کیا گِلا ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ مرے گھر لگی ہوئی
لازم ہے مرغِ بادنما بھی اذان دے
کلغی تو آپ کے بھی ہے سر پر لگی ہوئی
میرے ہی قتل نامے پہ میرے ہی دستخط
میری ہی مُہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فراز
ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی
احمد فراز

ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب

دیوان چہارم غزل 1357
کیا کریں تدبیر دل مقدور سے باہر ہے اب
ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب
جن دنوں ہم کافروں سے ربط تھا وے ہوچکے
وہ بت بے مہر اپنی اور سے پتھر ہے اب
دور تک رسوا ہوا ہوں شہروں شہروں ملک ملک
میرے شعر و شاعری کا تذکرہ گھر گھر ہے اب
وہ طبیعت ہی نہیں ہے میری اے مشفق طبیب
کر دوا جو طبع میں آوے تری بہتر ہے اب
بے خود اس مست ادا و ناز بن رہتے ہیں ہم
عالم اپنا دیکھیے تو عالم دیگر ہے اب
وہ سپاہی پیشہ لوگوں ہی میں رہتا ہے گھرا
گرد پیش اس دشمن احباب کے لشکر ہے اب
گفتگو انسان سے محشر میں ہے یعنی کہ میر
سارا ہنگامہ قیامت کا مرے سر پر ہے اب
میر تقی میر

چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے

دیوان دوم غزل 993
سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے
مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ
چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے
کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے
جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے
اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا
راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے
میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو
لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے
چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک
گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے
صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا
کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے
پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں
ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے
لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے
میر تقی میر

کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت

دیوان دوم غزل 786
دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت
کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت
دل کی ویسی ہے خرابی کثرت اندوہ سے
جیسے رہ پڑتا ہے دشمن کا کہیں لشکر بہت
ہم نشیں جا بیٹھ محنت کش کوئی دل چاہیے
عشق تیرا کام ہے تو ہے بغل پرور بہت
بس نہیں مجھ ناتواں کا ہائے جو کچھ کرسکوں
مدعی پُرچَک سے اس کی پڑ گیا ہے ور بہت
سخت کر جی کیونکے یک باری کریں ہم ترک شہر
ان گلی کوچوں میں ہم نے کھائے ہیں پتھر بہت
دیکھ روے زرد پر بھی میرے آنسو کی ڈھلک
اے کہ تونے دیکھی ہے غلطانی گوہر بہت
ہم نفس کیا مجھ کو تو رویا کرے ہے روز و شب
رہ گئے ہیں مجھ سے کوے یار میں مرکر بہت
کم مجھی سے بولنا کم آنکھ مجھ پر کھولنا
اب عنایت یار کی رہتی ہے کچھ ایدھر بہت
کیا سبب ہے اب مکاں پر جو کوئی پاتا نہیں
میر صاحب آگے تو رہتے تھے اپنے گھر بہت
میر تقی میر

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

دیوان اول غزل 107
دل جو زیرغبار اکثر تھا
کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن
رات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہان سے گذرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم
یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلوم
دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ
کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا
جب تلک عہد دیدئہ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آباد
ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلہ غافل
رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گذرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبال
اک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
میر تقی میر

موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا

دیوان اول غزل 46
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب
کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا
جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا
جو ستم دیدہ رہا جاکے سو مر کر نکلا
دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھ
جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا
اشک تر قطرئہ خوں لخت جگر پارئہ دل
ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا
کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے
اس دفینے میں سے اقسام جواہر نکلا
ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
میر تقی میر

بے تیغ و تیر، شحنہ لشکر بھی ہو گئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 256
ہم دل فگار آج دلاور بھی ہو گئے
بے تیغ و تیر، شحنہ لشکر بھی ہو گئے
پہلے بھی خودسری تو بہت تھی خمیر میں
اب کج کلاہیوں پہ مقرر بھی ہو گئے
آزادگی تو جا نہیں سکتی مزاج کی
میر سپاہ لے ترے نوکر بھی ہو گئے
یہ سب ولائے فاتح خیبر کا فیض ہے
ہم سر جھکا کے صاحب افسر بھی ہو گئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ ہیں مشکل کشا علی
وہ معرکے جو بس کے نہ تھے سر بھی ہو گئے
اب کیا شکایت ستم دہر کیجیے
جتنے گلے تھے داخل دفتر بھی ہو گئے
نافذ ہوا وہی شہہ مرداں کا فیصلہ
دشمن کے دستخط سر محضر بھی ہو گئے
عرفان صدیقی

حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 220
شانِ خدا، ردانِ پیمبرؐ، علیؑ علیؑ
حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ
زیب بدن شہانۂ تسخیرِ کائنات
سر پر لوائے حمد کا افسر علیؑ علیؑ
مٹی کی مملکت میں علم اسم بوترابؑ
افلاک پر ندائے مکرر، علیؑ علیؑ
سازِ مکانِ انفس و آفاق اُس کا نام
نازِ جہانِ اصغر و اکبر، علیؑ علیؑ
بے مایگاں کا مونس و غم خوار کون ہے
بے چارگاں کا کون ہے یاور، علیؑ علیؑ
مردانِ حرُ کا قافلہ سالار کون ہے
خاصانِ رب کا کون ہے رہبر، علیؑ علیؑ
مدّت سے ہے نواحِ غریباں میں خیمہ زن
وحشت کی فوج، خوف کا لشکر، علیؑ علیؑ
اِک بادباں شکستہ جہاز اور چہار سمت
کالی گھٹا، سیاہ سمندر، علیؑ علیؑ
اِک تشنہ کام ناقۂ جاں اور ہر طرف
باد سموم، دشت ستم گر، علیؑ علیؑ
اِک پافگار رہ گزری اور راہ میں
انبوہِ گرگ، مجمعِ اژدر، علیؑ علیؑ
اک سینہ چاک خاک بہ سر اور کوُ بہ کوُ
سوغاتِ سنگ، ہدیۂ خنجر، علیؑ علیؑ
میں بے نوا ترے درِ دولت پہ داد خواہ
اے میرے مرتضیٰؑ ، میرے حیدرؑ ، علیؑ علیؑ
میں بے اماں مجھے ترے دستِ کرم کی آس
تو دل نواز، تو ہی دلاور، علیؑ علیؑ
نانِ شعیر و جوہرِ شمشیر تیرے پاس
توُ ہی دلیر، توُ ہی تونگر، علیؑ علیؑ
توُ تاجدار تاب و تبِ روزگار کا
مجھ کو بھی اِک قبالۂ منظر، علیؑ علیؑ
توُ شہریار آب و نمِ شاخسار کا
میرے لیے بھی کوئی گلِ تر، علیؑ علیؑ
روشن ترے چراغ یمین و یسار میں
دونوں حوالے میرے منوّر، علیؑ علیؑ
یہ خانہ زادگاں ہیں تجھی سے شرف نصیب
ان کو بھی اِک خریئ گوہر، علیؑ علیؑ
اب میرے دشت میرے خرابے کی سمت موڑ
رہوار کی عنانِ معبر، علیؑ علیؑ
نصرت، کہ ہو چکے ہیں سزاوار ذوالفقار
میری زمیں کے مرحب و عنتر علیؑ علیؑ
پابستگاں پہ بام و درِ شش جہات کھول
اے بابِ علم، فاتحِ خیبر، علیؑ علیؑ
انعام کر مجھے بھی کہ صدیوں کی پیاس ہے
دریا، بنامِ ساقئ کوثر، علیؑ علیؑ
مولاؑ ، صراطِ روزِ جزا سے گزار ہی جائے
کہتا ہوا یہ تیرا ثناگر، علیؑ علیؑ
عرفان صدیقی

کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 93
روشن ہوا یہ شام کے منظر کو دیکھ کر
کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر
نہر گلو سے پیاسوں نے پہرے اُٹھا لیے
صحرا میں تشنہ کامئ خنجر کو دیکھ کر
جاں دادگان صبر کو فردوس کے سوا
کیا دیکھنا تھا سبط پیمبر کو دیکھ کر
سر کی ہوائے دشت نے گلبانگ لااِلٰہ
اوج سناں پہ مصحف اطہر کو دیکھ کر
آخر کھلا کہ بازوئے، نصرت قلم ہوئے
دوش ہوا پہ رایت لشکر کو دیکھ کر
ہے حرف حرف نقش وفا بولتا ہوا
آئینے چپ ہیں بیت ثناگر کو دیکھ کر
دل میں مرے یہ جوشِ ولا ہے خدا کی دین
حیرت نہ کر صدف میں سمندر کو دیکھ کر
عرفان صدیقی

آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 365
پلکیں کسی برہن کے کھلے سر کی طرح ہیں
آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں
گرتے ہیں ہمی میں کئی بپھرے ہوئے دریا
ہم وقت ہیں ، لمحوں کے سمندر کی طرح ہیں
بس ٹوٹتے پتوں کی صدائیں ہیں ہوا میں
موسم بھی مرادوں کے مقدر کی طرح ہیں
رکھتے ہیں اک اک چونچ میں کنکر کئی دکھ کے
اب حرف ابابیلوں کے لشکر کی طرح ہیں
بکتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا ہو گا
اب ہم بھی کسی آخری زیور کی طرح ہیں
یہ خواب جنہیں اوڑھ کے سونا تھا نگر کو
فٹ پاتھ پہ بچھتے ہوئے بستر کی طرح ہیں
ناراض نہ ہو اپنے بہک جانے پہ جاناں
ہم لوگ بھی انسان ہیں ، اکثر کی طرح ہیں
اب اپنا بھروسہ نہیں ، ہم ساحلِ جاں پر
طوفان میں ٹوٹے ہوئے لنگر کی طرح ہیں
تم صرفِ نظر کیسے، کہاں ہم سے کرو گے
وہ لوگ ہیں ہم جو تمہیں ازبر کی طرح ہیں
منصور ہمیں بھولنا ممکن ہی نہیں ہے
ہم زخم میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں
منصور آفاق

بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 116
موجوں کے آس پاس کوئی گھر بنا لیا
بچے نے اپنے خواب کا منظر بنا لیا
اپنی سیاہ بختی کا اتنا رکھا لحاظ
گوہر ملا تو اس کو بھی کنکر بنا لیا
بدلی رُتوں کو دیکھ کے اک سرخ سا نشاں
ہر فاختہ نے اپنے پروں پر بنا لیا
شفاف پانیوں کے اجالوں میں تیرا روپ
دیکھا تو میں نے آنکھ کو پتھر بنا لیا
ہر شام بامِ دل پہ فروزاں کیے چراغ
اپنا مزار اپنے ہی اندر بنا لیا
پیچھے جو چل دیا مرے سائے کی شکل میں
میں نے اُس ایک فرد کو لشکر بنا لیا
شاید ہر اک جبیں کا مقدر ہے بندگی
مسجد اگر گرائی تو مندر بنا لیا
کھینچی پلک پلک کے برش سے سیہ لکیر
اک دوپہر میں رات کا منظر بنا لیا
پھر عرصۂ دراز گزارا اسی کے بیچ
اک واہموں کا جال سا اکثر بنا لیا
بس ایک بازگشت سنی ہے تمام عمر
اپنا دماغ گنبدِ بے در بنا لیا
باہر نکل رہے ہیں ستم کی سرنگ سے
لوگوں نے اپنا راستہ مل کر بنا لیا
گم کربِ ذات میں کیا یوں کربِ کائنات
آنکھوں کے کینوس پہ سمندر بنا لیا
منصور جس کی خاک میں افلاک دفن ہیں
دل نے اسی دیار کو دلبر بنا لیا
منصور آفاق

وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 65
سید نصیر شاہ کا جو گھر تھا کیا ہوا
وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا
کہتا تھا جو خدا سے کہ اک جیساکر ہمیں
مشہور شہر میں وہ جو کافر تھا کیا ہوا
وہ جس بلند طرے سے ڈرتے تھے کجکلاہ
وہ جو غریب چلتا اکٹر کر تھا کیا ہوا
ہوتے مشاعرے تھے جو اکثر وہ کیا ہوئے
وہ شاعروں کا ایک جو لشکر تھا کیا ہوا
وہ شام کیا ہوئی جو سٹیشن کے پاس تھی
وہ شخص جو مجھے کبھی ازبر تھا کیا ہوا
وہ ہار مونیم جو بجاتا تھا ساری رات
وہ ایک گانے والا یہاں پر تھا کیا ہوا
برگد ہزاروں سال سے سایہ فگن جہاں
وہ چشمہ جو پہاڑ کے اوپر تھا کیا ہوا
جلتے جہاں تھے دیپ وہ میلے کہاں گئے
آتا یہاں جو پھولوں کا چیتر تھا کیا ہوا
مکھن جو کھایا کرتے تھے وہ مرغ کیا ہوئے
ہر صبح وہ جو بولتا تیتر تھا کیا ہوا
عاجز کے وہ لہکتے ہوئے گیت کیا ہوئے
تنویر کچھ بتا وہ جو مظہر تھا کیا ہوا
چشمہ بیراج کیا ہوا منصور کچھ کہو
جو دیکھنے میں ایک سمندر تھا کیا ہوا
منصور آفاق