ٹیگ کے محفوظات: لبادہ

اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
دل کی جو بھی ہو طلب،تجھ سے اعادہ چاہے
اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے
تیری آنکھوں کے سوا مستیاں چھلکیں نہ کہیں
جسم کا جام ترے قرب کا بادہ چاہے
سچ وہ سورج کی کرن ہے جو چھپائے نہ چھپے
مکر جیسا بھی ہو ہر آن لبادہ چاہے
گانٹھ کیسی ہو وہ اس سے کبھی کھولے نہ کھلے
حسن چاہت کی کوئی بات ہو سادہ چاہے
چاند جذبوں کی صداقت سے پہنچ کو پہنچے
کوہ کھدنے کو بڑا سخت ارادہ چاہے
تجھ سے ملنے کو پروبال بھی درکار ہیں اب
اب تو ماجِد بھی ہوا پر کوئی جادہ چاہے
ماجد صدیقی

اس میں آسودگی زیادہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 101
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی
نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی
نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی
جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی
لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی
حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی
زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی
کچھ تو پیکر میں‌ تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی
اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی
جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار، اتنی سادہ تھی
اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی
یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں‌ہم سے وفا زیادہ تھی
وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی
احمد فراز

اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 29
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوسدلکو تن کا لبادہ نہیں کیا
جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغروبادہ نہیں کیا
کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اسنےبھی التفات زیادہ نہیں کیا
آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنابھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
پروین شاکر

ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 60
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے
پینا ہو تو اک جرعۂِ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے
اشکوں سے چراغاں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِٔ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے
یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے
ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے
سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے
شکیب جلالی

یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا
گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے
ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا
منزل کو نہ پہچانے رہِ عشق کا راہی
ناداں ہی سہی، ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا
تھک کر یونہی پل بھر کےلئے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبت
فرق ان میں کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا
لاہور
فیض احمد فیض

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عطا کرو اک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ سرِ رہ گزر فتادہ
کہ ایک دن پھر نظر میں آئے
وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ
وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے
قبائے رنگیں، ادائے سادہ
فیض احمد فیض

پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں
بہار آئے گی جب آئے گی، یہ شرط نہیں
کہ تشنہ کام رہیں گرچہ بادہ رکھتے ہیں
تری نظر کا گلہ کیا؟ جو ہے گلہ دل کا
تو ہم سے ہے، کہ تمنا زیادہ رکھتے ہیں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرقِ خوں ہیں کہ ہم
خیالِ وضعِ قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیر ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
جوابِ واعظِ چابک زباں میں فیض ہمیں
یہی بہت ہیں جو دو حرفِ سادہ رکھتے ہیں
نذرِ غالب
فیض احمد فیض