ٹیگ کے محفوظات: لا

نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں

مقابلہ ہے کہ ہیں کس کے پاس کیا خبریں
نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں
ہے میرے پاس خدا کا دیا ہوا سب کچھ
اگر مرے لیے لانا ہے کچھ تو لا خبریں
سنی سنائی پہ کرتا نہیں یقین کوئی
سنانی چھوڑ مرے دوست اب دکھا خبریں
دیا نہ دھیان کسی نے کھلا نہ در کوئی
نگر نگر لیے پھرتی رہی ہوا خبریں
ہوئی کسی کی توجہ نہ جس عمارت پر
اُسی کے ملبے میں بکھری ہیں جا بجا خبریں
باصر کاظمی

دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
شاہ نگر سے وہ کہ ہے شہرِ ریا او یار!
دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!
کب تک اور ہمیں بے دم ٹھہرائے گی
ذکر سے شاہوں کے مسموم ہوا او یار!
اپنا مقدّر جنیں یا آفت سمجھیں
جس میں گھرے ہیں ہم وہ حبس ہے کیا او یار!
زورآور خوشبو بردار بتائیں جسے
کیوں وہ صبا لگتی ہے تعفّن زا او یار!
ذہن میں در آئے ہیں یہ کون سے اندیشے
بستر تک کیوں لگنے لگا ہے چِتا او یار!
جبر نے کونسا اور اب طیش دکھایا ہے
عدل کے حجلوں میں بھی شور بپا او یار!
رُخ پہ سرِ میداں نہ یہ کالک مَل اپنے
ماجِد تجھ سے کہے مت پیٹھ دکھا او یار!
ماجِد جبر کی رُت میں سخن کو دھیما رکھ
دھیان میں اپنے پیری بھی کچھ لا او یار!
ماجد صدیقی

کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
جو مِلے تو والیٔ شہر کو یہی بات ہم بھی بتا سکے
کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے
جو ٹلا عقاب تو برق نے ہیں چڑھائے تیر سرِکماں
ہے کوئی کہ جور سے فاختہ کو جو آسماں کے بچا سکے
ہے یہی تو اُس کا کمالِ فن، کہ ہے راستی میں وُہ پُرفتن
نہ بچا کوئی سرِانجمن، جو فریب اُس کا نہ کھا سکے
سبھی کشتیاں سرِ آب ہیں کہ جو مبتلائے عذاب ہیں
جو بُکا کسی کی سُنے بھی تو کوئی کیا کرشمہ دکھا سکے
جو نہیں ہے ابرِ کرم کہیں تو فلک سے بھیج وُہ آگ ہی
کہ جو کشتِ جاں میں بسی ہوئی نمِ آرزو ہی جلا سکے
ہوئے شل جو وار سے غیر کے اُنہی بازوؤں کی کمان پر
یہ ہمِیں تھے تیرِ سخن تلک کسی طَور جو نہ چڑھا سکے
سبھی مصلحت کے اسیر تھے کوئی تھا نہ ہم ساخسارہ جُو
ہمِیں ایکِماجدؔ سادہ دل‘ نہ ابال دل کا دبا سکے
ماجد صدیقی

آنے والے آ نہ سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ہم پہ کرم فرما نہ سکے
آنے والے آ نہ سکے
دے گئے رنج بکھرنے کا
پھُول بھی دل بہلا نہ سکے
کر کے مقّید بھی وہ مجھے
بات مری جھٹلا نہ سکے
میری آس کے آنگن کے
چاند کبھی گہنا نہ سکے
ہم نہ ہوئے تسلیم جنہیں
وہ بھی ہمیں ٹھکرا نہ سکے
ماجدؔ کیا کیا رنج تھے جو
لوگ زباں پر لا نہ سکے
ماجد صدیقی

وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
نظر میں ہے نظر سے ہے جُدا بھی
وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی
ہَوا جن پر بظاہر مہرباں ہے
اُنہی پتّوں سے رہتی ہے خفا بھی
گریزاں ہیں نجانے کیوں ہمِیں سے
زمانہ بھی، مقدر بھی،خدا بھی
ستم باقی رہا اب کون سا ہے
بہت کچھ ہو چکا اب لوٹ آ بھی
ترستی ہے جسے خوں کی روانی
سخن ایسا کوئی ہونٹوں پہ لا بھی
بہت نزدیک سے دیکھا ہے ماجدؔ!
نظر نے عرصۂ کرب و بلا بھی
ماجد صدیقی

تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے
بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی
مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے
کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی
کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ، مِل گیا مجھے
وہ کہ مثالِ مہر ہے، وہ کہ ہے رشکِ ماہ بھی
اے مرے نطق و لب کی ضو! سامنے اُس کے لا مجھے
دست درازیِ خزاں! ہے تجھے مجھ پہ اختیار
کر تو دیا برہنہ تن، اور نہ اَب ستا مجھے
اے مری ماں! مری زمیں! تجھ سے کہوں تو کیا کہوں؟
چھین کے گود سے تری، لے گئی کیوں خلا مجھے
جب سے جلے ہیں باغ میں برق سے بال و پر مرے
کہنے لگی ہے خلق بھی ماجدِؔ بے نوا مجھے
ماجد صدیقی

ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 77
میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
مجھ کو بقائے عیشِ توہم نہیں قبول
میں تو فنا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، عجب ہے مرا عذاب
ہر لمحہ یا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں غبار جادہ بود و نبود کا
یعنی ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
تم بھی تو آج مجھ سے کرو کچھ سخن کہ میں
نفیِ انا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
موسم مرا کوئی بھی نہیں اس زمین میں
آب و ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
جون ایلیا

ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت

دیوان سوم غزل 1115
سیر کی ہم نے اٹھ کے تا صورت
ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت
منھ لگانا تو درکنار ان نے
نہ کہا ہے یہ آشنا صورت
منھ دکھاتی ہے آرسی ہر صبح
تو بھی اپنی تو ٹک دکھا صورت
خوب ہے چہرئہ پری لیکن
آگے اس کے ہے کیا بلا صورت
کب تلک کوئی جیسے صورت باز
آوے پیاری بنا بنا صورت
ایک دن تو یہ کہہ کہ ملنے کی
تو بھی ٹھہرا کے کوئی لا صورت
حلقے آنکھوں میں پڑ گئے منھ زرد
ہو گئی میر تیری کیا صورت
میر تقی میر

مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے

دیوان دوم غزل 1000
درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے
مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے
کہاں تک یوں پڑے بستر پہ رہیے دور جاناں سے
کوئی کاش اس گلی میں ہم کو اک تکیہ بنا دیوے
ہوئے برسوں کہ وہ ظالم رہے ہے مجھ پہ کچھ ٹیڑھا
کوئی اس تیغ برکف کو گلے میرے ملا دیوے
وفا کی مزد میں ہم پر جفا و جور کیا کہیے
کسو سے دل لگے اس کا تو وہ اس کی جزا دیوے
کہیں کچھ تو برا مانو بھلا انصاف تو کریے
بدی کو بھی نہایت ہے تمھیں نیکی خدا دیوے
صنوبر آدمی ہو تو سراپا بار دل لاوے
کہاں سے کوئی تازہ دل اسے ہر روز لا دیوے
بہت گمراہ ہے وہ شوخ لگتا ہے کہے کس کے
کوئی کیا راہ کی بات اس جفاجو کو بتا دیوے
جگر سب جل گیا لیکن زباں ہلتی نہیں اپنی
مباد اس آتشیں خو کو مخالف کچھ لگا دیوے
کوئی بھی میر سے دل ریش سے یوں دور پھرتا ہے
ٹک اس درویش سے مل چل کہ تجھ کو کچھ دعا دیوے
میر تقی میر

ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں

دیوان دوم غزل 895
اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں
ایک عالم میں ہیں ہم وے پہ جدا رہتے ہیں
برسے تلوار کہ حائل ہو کوئی سیل بلا
پیش کچھ آئو ہم اس کوچے میں جا رہتے ہیں
کام آتا ہے میسر کسے ان ہونٹوں سے
بابت بوسہ ہیں پر سب کو چما رہتے ہیں
دشت میں گرد رہ اس کی اٹھے ہے جیدھر سے
وحش و طیر آنکھیں ادھر ہی کو لگا رہتے ہیں
کیا تری گرمی بازار کہیں خوبی کی
سینکڑوں آن کے یوسف سے بکا رہتے ہیں
بسترا خاک رہ اس کی تو ہے اپنا لیکن
گریۂ خونیں سے لوہو میں نہا رہتے ہیں
کیوں اڑاتے ہو بلایا ہمیں کب کب ہم آپ
جیسے گردان کبوتر یہیں آ رہتے ہیں
حق تلف کن ہیں بتاں یاد دلائوں کب تک
ہر سحر صحبت دوشیں کو بھلا رہتے ہیں
یاد میں اس کے قد و قامت دلکش کی میر
اپنے سر ایک قیامت نئی لا رہتے ہیں
میر تقی میر

اس کو جگر بھی شرط ہے جو تاب لا سکے

دیوان اول غزل 587
خورشید تیرے چہرے کے آگو نہ آسکے
اس کو جگر بھی شرط ہے جو تاب لا سکے
ہم گرم رو ہیں راہ فنا کے شرر صفت
ایسے نہ جائیں گے کہ کوئی کھوج پا سکے
غافل نہ رہیو آہ ضعیفوں سے سرکشاں
طاقت ہے اس کو یہ کہ جہاں کو جلا سکے
میرا جو بس چلے تو منادی کیا کروں
تا اب سے دل نہ کوئی کسو سے لگا سکے
تدبیر جیب پارہ نہیں کرتی فائدہ
ناصح جگر کا چاک سلا جو سلا سکے
اس کا کمال چرخ پہ سر کھینچتا نہیں
اپنے تئیں جو خاک میں کوئی ملا سکے
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ تو ہے بوالہوس
کھانا تجھے حرام ہے جو زخم کھا سکے
اس رشک آفتاب کو دیکھے تو شرم سے
ماہ فلک نہ شہر میں منھ کو دکھا سکے
کیا دل فریب جاے ہے آفاق ہم نشیں
دو دن کو یاں جو آئے سو برسوں نہ جا سکے
مشعر ہے اس پہ مردن دشوار رفتگاں
یعنی جہاں سے دل کو نہ آساں اٹھا سکے
بدلوں گا اس غزل کے بھی میں قافیے کو میر
پھر فکر گو نہ عہدے سے اس کے بر آسکے
میر تقی میر

اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو

دیوان اول غزل 388
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو
اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو
چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب
حاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو
جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہرسحر کے
یا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو
آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت
کڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو
تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے
دس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو
تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے
گل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو
دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی
دریاے حسن وہ مہ کشتی بہ کف گدا تو
ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا
ہے قہر جب کہ ہو گا حرفوں سے آشنا تو
عالم ہے شوق کشتہ خلقت ہے تیری رفتہ
جانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو
منھ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے
پر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو
آتی بخود نہیں ہے باد بہار اب تک
دو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا
کرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو
گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے
ظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو
کہہ سانجھ کے موئے کو اے میر روئیں کب تک
جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو
میر تقی میر

ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 424
الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ
یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ
یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ
کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ
نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ
سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ
وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ
وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ
ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ
منصور آفاق

اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 31
روشنی آئندہ میں پھیلا رہا ہے نور سا
اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا
دے رہا ہے موت کے قیدی کو شاید حوصلہ
ایک روزن سے ابھی تک آرہا ہے نور سا
دیکھتا ہوں اپنی امی کے قدم اٹھتے ہوئے
چل رہی ہیں وہ یا چلتا جا رہا ہے نور سا
شام ڈھلتی جارہی ہے اک جنازے کے قریب
موت کے دربار میں کچھ گا رہا ہے نور سا
برف کے منصور طوفاں میں کرم کا گرم غار
لکڑیوں سے آگ بھی دہکا رہا ہے نور سا
منصور آفاق

غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 145
وضعداری کیا حقیقت راس آ سکتی نہیں
غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں
وہ سہارا دے رہے ہیں میرے احساسات کو
اب محبت دونوں عالم میں سما سکتی نہیں
عقل نے اوہام یوں رستے میں لا کر دکھ دئیے
زندگی دنیا کو اک مرکز پہ لا سکتی نہیں
دل کی آزادی بجا، نظروں کی بیباکی درست
زیست کیوں اس پر بھی کھل کر مسکرا سکتی نہیں
کچھ تو ہو باقیؔ جہاں کی چیرہ دستی کا علاج
زندگی اب اوربارِ غم اٹھا سکتی نہیں
باقی صدیقی

دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 107
ویکھ ویکھ کے بوہے بھِیڑے، کُنڈیاں رہئی کھڑکا
دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا
مکھڑے مکھڑے پَچھ دُکھاں دے، ویکھ نہ سکے کو
اکھیوں اکھیں ٹھاٹھاں مارے، لہو دا اک دریا
مَتّھے ائی نہ لگاّں تیرے، میں اَؤں بُھگا رُکھ
لٹکے لاندئیے وگدئیے وائے، مینوں ہتھ نہ لا
سُفنیاں دے ایس شیش محل چ، لہہ آئی کیہڑی حور
سِر تے چھتر تان پھُلاں دا، چانن ہیٹھ وچھا
دھپ چڑھے یا چانن لشکے، اوڑک گوہڑی چھاں
کوئی وی جان نہ سکیا ماجدُ سُکھ دے نگھّے تا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 34
جذبیاں نُوں بے تھانواں کر گئے، سفنیاں نُوں دہلا گئے نیں
چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں
خورے کیہڑیاں رُتاں ہتھوں، مُدّتاں توں زنجیرے نیں
پاندھی پَیر اساڈے، اگّے ودّھن نُوں، سدھرا گئے نیں
صورت کوئی نہ بندی جاپے، سنگ مقصد، کڑمائی دی
وچ اُڈیکاں پھُل گانے دے، وِینیاں تے کُملا گئے نیں
ٹِنڈاں دا کیہ، ایتک تے، ماہلاں وی تَرُٹیاں ہون گیّاں
اچن چیتی کَھوہ تاہنگاں دے، اِنج اُلٹے چکرا گئے نیں
ویہندیاں ویہندیاں ائی راہ لبھ پئی، دل چ رُکیاں ہیکاں نوں
سَد وطنوں کُھنجیاں کُونجاں دے، سُتے درد جگا گئے نیں
ویلے نے کد پرتن دِتا، ودھدے ہوئے پرچھانویں نوں
سجن سانوں، اُنج ائی میل ملاپ دے، لارے لا گئے نیں
ہاں ماجدُ چُنجاں کُنجیاں، کانواں فر نانویں انڈیاں دے
چِڑیاں ہتھوں ککھ جوڑن دے، دن فر پرت کے آ گئے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)