ٹیگ کے محفوظات: لا مرکز آوازیں

لا مرکز آوازیں

ایک آواز۔

پوربوں میں دُھول دُھول سورجوں کے گردباد بُجھ گئے۔

شام بے لباس ہے

اور اُس کی کوہ کوہ چاہتوں پہ آسماں جُھکا ہوا

گھونٹ گھونٹ پی رہا ہے کپکپاتی آنکھ سے

بے نمود روشنی کی لذتیں

آ کہ یہ عبادتوں کا وقت ہے

اے عظیم باپ تُو

ہمیں ہمارے بنجروں کے سہم سے نجات دے

یہیں کہیں

ہزار بجلیاں ہوا کی مٹھیوں میں بند ہیں

کھڑے ہیں اپنے آپ سے جُدا، ہم اپنے سامنے نہ جانے عکس۔

آئینے کی پیاس کب مٹائے گا

اے عظیم باپ تُو

ہمیں بُجھا۔۔۔۔ کہ پوربوں کی آندھیاں

ہماری زرد راکھ کے لباس کو اُتار دیں

دوسری آواز

قدیم جسم دلدلوں کی شام میں

غروب ہو چکا ہے۔۔۔۔ دیکھتے نہیں؟

لہو کی روشنائی سے زمین کی جبین پر

لکھی ہوئی شہادتیں

اے عظیم موت! تو گواہ رہ

وہ کہ جن کی گردنوں سے خوف کی رسولیاں

لٹک رہی تھیں

بے نشان ہو چکے!

آفتاب اقبال شمیم