ٹیگ کے محفوظات: لایئے

اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
کرب کوئی سوچ کر سو جایئے
اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے
آپ بِن چاہے جو طوطے بن گئے
اِک سبق ہی زیست بھر دُہرائیے
لا کے پنجوں میں کہاں چھوڑے گا باز
یہ رعایت ذہن میں مت لائیے
پُوری کشتی ہو شکنجے میں تو پھر
کُود کر گرداب ہی میں جایئے
پھیلئے تو مثلِ خُوشبو پھیلئے
چھایئے تو ابر بن کر چھایئے
آپ سے بہتر ہو گر نسل آپ کی
اور کسی حاصل کو مت للچایئے
تُم کہ ماجِد ابکے امریکہ میں ہو
گُن کُچھ اپنے بھی یہاں گِنوایئے
ماجد صدیقی

گلگشت کو جو آئیے آنکھوں پہ آئیے

دیوان ششم غزل 1889
گل نے بہت کہا کہ چمن سے نہ جایئے
گلگشت کو جو آئیے آنکھوں پہ آئیے
میں بے دماغ کرکے تغافل چلا گیا
وہ دل کہاں کہ ناز کسو کے اٹھایئے
صحبت عجب طرح کی پڑی اتفاق ہائے
کھو بیٹھیے جو آپ کو تو اس کو پائیے
رنجیدگی ہماری تو پر سہل ہے ولے
آزردہ دل کسو کو نہ اتنا ستایئے
خاطر ہی کے علاقے کی سب ہیں خرابیاں
اپنا ہو بس تو دل نہ کسو سے لگایئے
اے ہمدم ابتدا سے ہے آدم کشی میں عشق
طبع شریف اپنی نہ ایدھر کو لایئے
اتنی بھی کیا ہے دیدہ درائی کہ غیر سے
آنکھیں لڑایئے ہمیں آنکھیں دکھایئے
مچلا ہے وہ تو دیکھ کے لیتا ہے آنکھیں موند
سوتا پڑا ہو کوئی تو اس کو جگایئے
جان غیور پر ہے ستم سا ستم کہ میر
بگڑا جنھوں سے چاہیے ان سے بنایئے
میر تقی میر

پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے

دیوان دوم غزل 1017
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے
ساکن دیر و حرم دونوں تلاشی ہیں ترے
تو خدا جانے کہاں ہے کیونکے تجھ کو پایئے
دور ہی سے ہوش کھو دیتی ہے اس کی بوے خوش
آپ میں رہیے تو اس کے پاس بھی ٹک جایئے
ان دنوں رنگ اور کچھ ہے اس دل پرخون کا
حق میں میرے آپ ہی کچھ سوچ کر فرمایئے
جی ہی کھپ جاتا ہے طنز آمیز ایسے لطف سے
ہنس کے جب کہتا ہے سب میں آیئے جی آئیے
دل کے ویراں کرنے میں بیداد کی ہے تونے ہائے
خوش عمارت ایسے گھر کو اس طرح سے ڈھایئے
رات دن رخسار اس کے چت چڑھے رہتے ہیں میر
آفتاب و ماہ سے دل کب تلک بہلایئے
میر تقی میر