ٹیگ کے محفوظات: لال

میں تو نڈھال ہو گیا، ھم تو نڈھال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 171
کون سا قافلہ ھے یہ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ھم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل فصل بہار آگئی
فصل بہار آگئی، زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خوں بہا مگر ترے ھاتھ تو لال ہو گئے
ھم نفسان وضع دار، مستمعان بردبار
ھم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 170
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشتِ غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
کتنے ہی نشہ ہائے ذوق، کتنے ہی جذبہ ہائے شوق
رسمِ تپاکِ یار سے رو بہ زوال ہو گئے
عشق ہے اپنا پائیدار، اس کی وفا ہے استوار
ہم تو ہلاک۔ ورزشِ فرض۔ محال ہو گئے
کیسے زمیں پرست تھے عہدِ وفا کے پاس دار
اڑ کے بلندیوں میں ہم، گرد ملال ہو گئے
قربِ جمال اور ہم، عیش و وصال اور ہم؟
ہاں یہ ہوا کہ ساکنِ شہرِ جمال ہو گئے
جادو شوق میں پڑا قحطِ غبارِ کارواں
واں کے شجر تو سر بہ سر دست سوال ہو گئے
کون سا قافلہ ہے یہ، جس کے جرس کا ہے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ہم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل، فصلِ بہار آ گئی
فصلِ بہار آ گئی۔ زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
ہم نفسانِ وضع دار، مستعانِ بردبار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے، اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 26
افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا
شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا
یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ
بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا
دشتِ گماں میں نالہءِ لیلیٰ تھا گرم خیز
شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا
خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر
دیکھا تو اک مرقعِ بے خدّ و خال تھا
کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں
جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا
ہم ایک بےگذشتِ زمانہ زمانے میں
تھے حال مستِ خال جو ہر دم بحال تھا
پُرحال تھا وہ شب مرے آغوش میں مگر
اس حال میں بھی اس کا تقرّب محال تھا
تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا
اس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں
جس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا
اب کیا حسابِ رفتہ و آئندہ ءِ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا
کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سخن تھی جون
جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا
جون ایلیا

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 252
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی
اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان
نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم

دیوان دوم غزل 860
بخت سیہ کی نقل کریں کس سے چال ہم
مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم
کیونکر نہ اس چمن میں ہوں اتنے نڈھال ہم
یاں پھول سونگھ سونگھ رہے ماہ و سال ہم
یا ہر گلی میں سینکڑوں جس جا ملیح تھے
یا زلف و خط کو دیکھتے ہیں خال خال ہم
گذرے ہے جی میں گہ وہ دہن گاہ وہ کمر
کیا جانیں لوگ رکھتے ہیں کیا کیا خیال ہم
جاتیں نہیں اٹھائی یہ اب سرگرانیاں
مقدور تک تو اپنے گئے ٹال ٹال ہم
لوہو کہاں ہے گریۂ خونیں سے تن کے بیچ
کرتے ہیں منھ کو اپنے طمانچوں سے لال ہم
وہ تو ہی ہے کہ مرتے ہیں سب تیرے طور پر
حور و پری کو جان کے کب ہیں دوال ہم
گذرے ہے بسکہ اس کی جدائی دلوں پہ شاق
منھ نوچ نوچ لے ہیں علی الاتصال ہم
منظور سجدہ ہے ہمیں اس آفتاب کا
ظاہر میں یوں کریں ہیں نماز زوال ہم
ظاہر ہوئے تمھیں بھی ہمارے دم اور ہوش
آئے نہ پھر تمھارے گئے ٹک بحال ہم
مطلق جہاں میں رہنے کو جی چاہتا نہیں
اب تم بغیر اپنے ہوئے ہیں وبال ہم
نقصان ہو گا اس میں نہ ظاہر کہاں تلک
ہوویں گے جس زمانے کے صاحب کمال ہم
تھا کب گماں ملے گا وہ دامن سوار میر
کل راہ جاتے مفت ہوئے پائمال ہم
میر تقی میر

اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا

دیوان دوم غزل 745
کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا
اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا
کیا ہے جو ہو زنخ زن مہ پاس کا ستارہ
ہے داغ جان عالم ٹھوڑی کا خال تیرا
اے گل مغل بچہ وہ مرزا ہے اس کے آگے
کچھ بھی بھلا لگے ہے منھ لال لال تیرا
تجھ روے خوے فشاں سے انجم ہی کیا خجل ہیں
ہے آفتاب کو بھی اے ماہ سال تیرا
اب صبح پاس گل کے ہوکر نہیں نکلتی
دیکھا نسیم نے بھی شاید جمال تیرا
پہلا قدم ہے انساں پامال مرگ ہونا
کیا جانے رفتہ رفتہ کیا ہو مآل تیرا
ہو گی جو چل سرمو پنہاں نہیں رہے گی
اک دن زبان ہو گا ایک ایک بال تیرا
تفصیل حال میری تھی باعث کدورت
سو جی کو خوش نہ آیا ہرگز ملال تیرا
کچھ زرد زرد چہرہ کچھ لاغری بدن میں
کیا عشق میں ہوا ہے اے میر حال تیرا
میر تقی میر

سارے تیرا خیال رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 316
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
سارے تیرا خیال رکھتے ہیں
شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں
مدتوں یاد سال رکھتے ہیں
ان لبوں کا جواب دہ ہے لعل
ہم تجھی سے سوال رکھتے ہیں
گل ترے روزگار خوبی میں
منھ طمانچوں سے لال رکھتے ہیں
دہن تنگ کے ترے مشتاق
آرزوے محال رکھتے ہیں
خاک آدم ہی ہے تمام زمیں
پائوں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
یہ جو سر کھینچے تو قیامت ہے
دل کو ہم پائمال رکھتے ہیں
اہل دل چشم سب تری جانب
آئینے کی مثال رکھتے ہیں
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میرجی بھی کمال رکھتے ہیں
میر تقی میر

سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا

دیوان اول غزل 13
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھائو پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں
سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار
تیرا تو میر غم میں عجب حال ہو گیا
میر تقی میر

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

دیوان اول غزل 8
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر
برنگ سبزئہ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی
سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم
نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف
کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تونے
جو کچھ کہ میر کا اس عاشقی نے حال کیا
میر تقی میر

بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 566
وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے
بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے
درد کے پرندوں کو آنکھ سے رہائی دی
آخرش وہ دن آیا رو پڑے ملال اپنے
یہ صدا سنائی دے کوئلے کی کانوں سے
زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے
دیکھ دستِ جانانہ ! کھلنے کی تمنا میں
جینز کے اٹیچی میں بند ہیں جمال اپنے
قتل تو ڈرامے کا ایکٹ تھا کوئی منصور
کس لیے لہو سے ہیں دونوں ہاتھ لال اپنے
منصور آفاق