ٹیگ کے محفوظات: لالے

اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے

دیوان اول غزل 499
اس اسیری کے نہ کوئی اے صبا پالے پڑے
اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے
حسن کو بھی عشق نے آخر کیا حلقہ بگوش
رفتہ رفتہ دلبروں کے کان میں بالے پڑے
مت نگاہ مست کو تکلیف کر ساقی زیاد
ہر طرف تو ہیں گلی کوچوں میں متوالے پڑے
کیونکے طے ہو دشت شوق آخر کو مانند سر شک
میرے پائوں میں تو پہلے ہی قدم چھالے پڑے
جوش مارا اشک خونیں نے مرے دل سے زبس
گھر میں ہمسایوں کے شب لوہو کے پرنالے پڑے
ہیں بعینہ ویسے جوں پردہ کرے ہے عنکبوت
روتے روتے بسکہ میری آنکھوں میں جالے پڑے
گرمجوشی سے مرے گریے کی شب آنکھوں کی راہ
گوشۂ دامن میں میر آتش کے پرکالے پڑے
میر تقی میر

گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے

دیوان اول غزل 488
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
گلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
وہ کالا چور ہے خال رخ یار
کہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرالے
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتم
خدا ہی اس مصیبت سے نکالے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیے
کبھو تو پاس ہم کو بھی بلالے
دلا بازی نہ کر ان گیسوئوں سے
نہیں آساں کھلانے سانپ کالے
طپش نے دل جگر کی مار ڈالا
بغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
نہ مہکے بوے گل اے کاش یک چند
ابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
کسے قید قفس میں یاد گل کی
پڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
ستایا میر غم کش کو کنھوں نے
کہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
میر تقی میر