ٹیگ کے محفوظات: لالی

نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھی
نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی
زمین خود بھی تمازت سے تھی توے جیسی
فلک پہ چاند نہیں تھا دہکتی تھالی تھی
جو ابر بانجھ ہے اُس سے کہو کہ ٹل جائے
تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی
جمالِ فکر نے بَکنے نہ کُچھ دیا ورنہ
ہماری دھج بھی بظاہر بڑی جلالی تھی
دھُلی نہ گریۂ پس ماندگاں سے بھی ماجدؔ
کنارِ دیدۂ قاتل عجیب لالی تھی
ماجد صدیقی

ہم نے دل کی نہ بحالی دیکھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 109
جب سے وہ چشم غزالی دیکھی
ہم نے دل کی نہ بحالی دیکھی
وہ جو طوفان سے پہلے تھی کبھی
پھر فلک پر وُہی لالی دیکھی
ابر اُمڈا تو چمن میں کیا کیا
تشنہ شاخیں ہیں سوالی دیکھی
نام پر جدّتِ فن کے ہوتی
ہم نے کیا کیا نہ جگالی دیکھی
جس کو دیکھاہے اُسی کے منہ پر
حق میں اِس دور کے گالی دیکھی
اب کے پھر خواب میں ماجدؔ ہم نے
شاخ اثمار سے خالی دیکھی
ماجد صدیقی

پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑا لی یارو
پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو
شکر ہے تم نے یہ راہیں نہیں دیکھیں اَب تک
ہم تو در در پہ گئے بن کے سوالی یارو
آنکھ ہی دید سے محروم ہے ورنہ ہر سو
ہے وہی عارض و رخسار کی لالی یارو
جانے کس دور کا رہ رہ کے سُناتی ہے پیام
زرد پتّوں سے یہ بجتی ہوئی تالی یارو
عظمتِ رفتۂ فن لوٹ کے آتی دیکھو
طرز اب کے ہے وہ ماجدؔ نے نکالی یارو
ماجد صدیقی

کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 92
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے
رُت وہ ہے جب کونپل کی خوشبو سُر مانگے
پُروا کے ہمراہ عُمریا بالی گائے
مورنی بن کر پرواسنگ ہیں جب بھی ناچوں
پُروا بھی بن میں ہوکر متوالی گائے
رات گئے میں بندیا کھوجنے جب بھی نِکلوں
کنگن کھنکے اور کانوں کی بالی گائے
رنگ منایا جائے ، خوشبو کھیلی جائے
پُھول ہنسیں ، پتّے ناچیں اور مالی گائے
میرے بدن کا رواں رواں رس میں بھیگے
رات نشے میں اور ہوا بھوپالی گائے
سجے ہُوئے ہیں پلکوں پر خوشرنگ دیئے سے
آنکھ ستاروں کی چھاؤں دیوالی گائے
ہَوا کے سنگ چلے رہ رہ کے لے بنسی کی
جیسے دریا پار کوئی بھٹیالی گائے
ساجن کا اصرار کہ ہم تو گیت سُنیں گے
گوری چُپ ہے لیکن مُکھ کی لالی گائے
منہ سے نہ بولے ، نین مگر مُسکاتے جائیں
اُجلی دھوپ نہ بولے ، رینا کالی گائے
دھانی بانکیں جب بھی سہاگن کو پہنائے
شوخ سُروں میں کیا کیا چوڑی والی گائے
محنت کی سُندرتا کھیتوں میں پھیلی ہے
نرم ہَوا کی دُھن پر دھان کی بالی گائے
پروین شاکر

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

دیوان اول غزل 352
کہے ہے کوہکن کر فکر میری خستہ حالی میں
الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد
یکایک آگیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے
سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ
تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگہ
پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خورد سالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا
نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا
ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے
بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس میناے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے
یہی تو میر اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
میر تقی میر

آتے موسم کا پتا سوکھی ہوئی ڈالی دے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 263
کس کو دھوکا یہ ہوا بیتی رُتوں والی دے
آتے موسم کا پتا سوکھی ہوئی ڈالی دے
اَے خدا! سبزۂ صحرا کو بھی تنہا مت رکھ
اِس کو شبنم نہیں دیتا ہے تو پامالی دے
ہر برس صرف سمندر ہی پہ موتی نہ لٹا
ابرِ نیساں مرے کھیتوں کو بھی ہریالی دے
جب کبھی شام کو توُ دستِ دُعا پھیلائے
آسماں کو ترے ہاتھوں کی حنا لالی دے
چپ ہوا میں تو بس اقرارِ خطا ہی سمجھو
کیا بیاں اِس کے سوا مجرمِ اِقبالی دے
ویسے آنکھیں تو گنہگار بہت ہیں عرفانؔ
آگے جو کچھ مرے جذبوں کی خوش اعمالی دے
عرفان صدیقی